عرب کے لوگوں کا ریواج ہیں چاچا کو بھی ابو کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد بھی مومن تھے ہر نبی کے والد مومن ہی ہوتے ہیں مگر بد عقیدہ والے تفسیر تو پڑھتے نہیں اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کو بھی کافر کہتے ہیں کسی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہیں :-
عرب کے لوگوں کا ریواج ہیں چاچا کو بھی ابو کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد بھی مومن تھے ہر نبی کے والد مومن ہی ہوتے ہیں مگر بد عقیدہ والے تفسیر تو پڑھتے نہیں اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کو بھی کافر کہتے ہیں کسی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہیں :-
اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُۙ-اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْؕ-قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًاۖ-ۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ (۱۳۳)
*ترجمۂ کنز العرفان*
۔(اے یہودیو!)کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کے وصال کا وقت آیا، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: (اے بیٹو!) میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں ۔ *(سورۃ البقرہ آیت نمبر 133)*
تفسیر صراط الجنان
{اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ : کیا تم موجود تھے؟} یہ آیت یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی، انہوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی وفات کے روز اپنی اولاد کو یہودی رہنے کی وصیت کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بہتان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی ۔ *(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ:۱۳۳ ، ۱ / ۹۳ )*
آیت کے معنی یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل !کیا تمہارے پہلے لوگ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آخری وقت ان کے پاس موجود تھے جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر ان سے اسلام و توحید کا اقرا رلیا تھا اور یہ اقرار لیا تھا جو آیت میں مذکور ہے۔
{وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ : اور تمہارے باپ دادا کے معبود۔} حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آباء یعنی باپوں میں داخل کیا حالانکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حقیقی والد نہ تھے۔ یہ اس لیے ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے چچا ہیں اور چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے ذکر فرمانا دووجہ سے ہے، ایک تو یہ کہ آپ حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے چودہ سال بڑے ہیں دوسرا اس لیے کہ آپ سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آباء میں سے ہیں۔
Comments
Post a Comment