فرعون کے زمانے کے کاہنوں کی بیٹے کی خبر دینے پر ہر باطل فرقے والوں کا ایمان ہیں مگر جب حضور ﷺ کے لئے ثابت کیا جائے ماں کے پیٹ میں کیا ہے تو سب باطل فرقے والے انکار کرتے ہیں جس آیات میں پانچ علم غیب کی نجانے کی نفی ہیں وہ حضور ﷺ کے علم کی نفی نہیں کافروں کے سوال کے جواب نہ دینے کی نفی ہیں :-

 فرعون کے زمانے کے کاہنوں کی بیٹے کی خبر دینے پر ہر باطل فرقے والوں کا ایمان ہیں مگر جب حضور ﷺ کے لئے ثابت کیا جائے ماں کے پیٹ میں کیا ہے تو سب باطل فرقے والے انکار کرتے ہیں جس آیات میں پانچ علم غیب کی نجانے کی نفی ہیں وہ حضور ﷺ کے علم کی نفی نہیں کافروں کے سوال کے جواب نہ دینے کی نفی ہیں :-

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ(۴۹)

ترجمۂ کنز العرفان     

اور (یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بہت برا عذاب دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی ۔(سورۃ البقرہ آیت نمبر 49)

 تفسیر صراط الجنان      

{ وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ  : اورجب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی۔} اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل پر کی گئی نعمتوں کا اجمالی طور پر ذکر ہوا اور اب یہاں سے ان نعمتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا   کہ اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو کہ جب ہم نے تمہیں فرعون کی پیروی کرنے والوں سے نجات دی جو تمہیں بہت برا عذاب دیتے تھے۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کر رکھے تھے، پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں اورگردنیں زخمی ہوگئی تھیں ، غریبوں پر ٹیکس مقرر کئے ہوئے تھے جو غروب آفتاب سے قبل جبراًوصول کئے جاتے تھے اورجوٹیکس نہ دے پاتا اسے سخت سزائیں ملتی تھیں۔  (تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۴۹ ،  ۱ / ۵۰۴-۵۰۵  )    

{  یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ  :وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے۔} فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ آئی اور اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا جبکہ بنی اسرائیل کوکوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس خواب سے اسے بڑی وحشت ہوئی، کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری ہلاکت اور تیری سلطنت کی تباہی کا سبب بنے گا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو،اُسے قتل کردیا جائے۔  (  روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:   ۴۹  ،   ۱ / ۱۲۹  )  

یوں ہزاروں کی تعداد میں بچے قتل کئے گئے۔ قدرتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد مرنے لگے تو قبطی سرداروں نے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ ایک طرف بنی اسرائیل میں موت کی کثرت ہوگئی ہے اور دوسری طرف ان کے بچے بھی قتل کئے جا رہے   ہیں ،اگر یہی صورت حال رہی تو ہمیں خدمتگار کہاں سے ملیں گے؟اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑدئیے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسیٰ   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کی ولادت ہوئی۔یہ واقعہ سورۂ قصص کے پہلے رکوع میں کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے