حضور ﷺ مومن کے ایمان اور کافر کے کفر کو بھی جانتے ہیں :-
حضور ﷺ مومن کے ایمان اور کافر کے کفر کو بھی جانتے ہیں :-
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے جو تم پر گواہ ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف ایک رسسول بھیجے۔ تو فرعون نے اس رسول کا حکم نہ مانا تو ہم نے اسے سخت گرفت سے پکڑا۔ پھر اگر تم کفر کروتو اس دن کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا۔ آسمان اس کی وجہ سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہناہے۔ بیشک یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرے۔ *(سورۃ المزمل آیت نمبر 15/19)*
تفسیر صراط الجنان
{ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا : بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو دنیا کے ہَولناک عذاب سے ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے اہلِ مکہ! بیشک ہم نے اُسی طرح محمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا جو کہ مومن کے ایمان اور کافر کے کفر کو جانتے ہیں جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور جب فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی رسالت کا انکار کر کے اور ان پر ایمان نہ لا کر ان کا حکم نہ مانا تو ہم نے اس کی نافرمانی کی وجہ سے دریا میں ڈبو کر اسے سخت گرفت سے پکڑا ، لہٰذاتم بھی اس بات سے ڈرو کہ کہیں میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلانے کی وجہ سے تم پر بھی فرعون کی طرح دنیا میں عذاب نہ آجائے اور اگر نافرمانی کی وجہ سے دنیا میں تم پر عذاب آ گیا تو وہ فرعون کے عذاب سے زیادہ سخت ہو گا کیونکہ تمہارے پاس جو رسول تشریف لائے ہیں وہ رتبے میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بڑے ہیں ۔ *(خازن ، المزمل ، تحت الآیۃ : ۱۵ - ۱۶ ،۴ / ۳۲۳ ، روح البیان، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۵- ۱۶، ۱۰ / ۲۱۵ ، ابن کثیر، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۵ - ۱۶ ، ۸ / ۲۶۷ ، ملتقطاً)*
Comments
Post a Comment