حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی طاقت اور عظمت آپ ﷺ نے رب کا دیدار کیا سورۃ نجم میں دیدار پر جس جھگڑے کا ذکر ہیں وہ وہ مشرکین کا اعتراض ہیں خواب کے دیدار یا جبریل علیہ السلام کے دیدار پر کسی مشرک کو اعتراض نہیں ہوتا :-

 حضورِ اَقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی طاقت اور عظمت آپ  ﷺ  نے رب کا دیدار کیا سورۃ نجم میں دیدار پر جس جھگڑے کا ذکر ہیں وہ وہ مشرکین کا اعتراض ہیں خواب کے دیدار یا جبریل علیہ السلام کے دیدار پر کسی مشرک کو  اعتراض نہیں ہوتا :-

اب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی طاقت اور قوت کی کچھ جھلک ملاحظہ ہو۔چنانچہ قرآنِ پاک کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:      

’’  لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ *(حشر: ۲۱)*      

 *ترجمہکنزُالعِرفان*   : اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تم اسے جھکا ہوا، اللّٰہ  کے خوف سے پاش پاش دیکھتے۔      

اور اپنے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے بارے میں  ارشاد فرمایا:  اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا  *(دہر: ۲۳ )*      

 *ترجمہکنزُالعِرفان* : (اے حبیب!)  بیشک ہم نے تم پر تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن اتارا۔      

حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اللّٰہ تعالیٰ سے اپنا دیدار کروانے کی دعا کی تو  اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا:  لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا  *(اعراف: ۱۴۳)*      

 *ترجمہکنزُالعِرفان* :  تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ،البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ، یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نو ر چمکایا تو اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ بیہوش ہوکر گر گئے۔  اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے بارے میں  ارشاد فرمایا:  وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ (۷)ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ( ۹) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ (۱۰) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(۱۱) اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى( ۱۲) وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ( ۱۳) عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى( ۱۴) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ( ۱۵)  اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ (۱۶) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى *(نجم:۷ ۔ ۱۷)*      

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اس حال میں  کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔تو دو کمانوں  کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو  (آنکھ نے) دیکھا۔تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو۔اور انہوں  نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نہ کسی طرف پھری اور نہ حد سے بڑھی۔  ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے زیادہ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو طاقت اور قوت عطا فرمائی ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-