اہلے حدیث فرقے کی گمراہی وہ حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کر کے قرآن کی بہت سے آیت کا انکار کرتے ہیں ان کا عقیدہ ہیں جو علم حضور ﷺ کو میل گیا وہ غیب نہیں رہا اس آیت میں صحابہ کو غیب بتانے کو بھی اللہ‎ تعالیٰ نے غیب ہی کہا ہیں جو علم عام لوگ حواس خمسہ سے نہیں جان سکتے اس کو غیب کہا جاتا اللہ‎ تعالیٰ سے تو کوئی بھی علم چھپا نہیں ہیں پھر بھی ہم لوگ اسے غیب کا علم کہتے ہیں

 اہلے حدیث فرقے کی گمراہی وہ حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کر کے قرآن کی بہت سے آیت کا انکار کرتے ہیں ان کا عقیدہ ہیں جو علم حضور ﷺ کو میل گیا وہ غیب نہیں رہا اس آیت میں صحابہ کو غیب بتانے کو بھی اللہ‎ تعالیٰ نے غیب ہی کہا ہیں جو علم عام لوگ حواس خمسہ سے نہیں جان سکتے اس کو غیب کہا جاتا اللہ‎ تعالیٰ سے تو کوئی بھی علم چھپا نہیں ہیں پھر بھی ہم لوگ اسے غیب کا علم کہتے ہیں :-* 

ترجمۂ کنز العرفان       

اور یقینا بیشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا۔ اور یہ نبی غیب بتانے پر ہر گز بخیل نہیں ۔ *(سورۃ التکویر آیت نمبر 23/24)* 

 تفسیر صراط الجنان        

{ وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ   : اور یقینا بیشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا۔}    یعنی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پر حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام  کو ان کی اصلی صورت میں  دیکھا۔   *(خازن، التکویر، تحت الآیۃ: ۲۳ ، ۴ / ۳۵۷)*   

{ وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ  : اور یہ نبی غیب بتانے پر ہرگز بخیل نہیں ۔}  ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’یعنی  میرے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو غیب کا علم آتا ہے، وہ تمہیں بتانے  میں  بخل نہیں  فرماتے بلکہ تم کو بھی اس کا علم دیتے ہیں ۔  *(بغوی، التکویر، تحت الآیۃ: ۲۴، ۴ / ۴۲۲)*   

 ابو سعید عبداللّٰہ بن عمر بیضاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں ’’نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو جو غیب کی باتیں  بتائی جاتی ہیں  انہیں  بتانے میں  وہ بخل نہیں کرتے۔ *(بیضاوی، التکویر، تحت الآیۃ: ۲۴،  ۵ / ۴۵۹ )*   

 اس سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو اللّٰہ  تعالیٰ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اس میں سے بہت کچھ اپنے صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ   کو بتا یا ہے۔حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے علم ِغیب کے بارے میں  تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی جلد نمبر  29  سے ان  3 رسائل کا مطالعہ فرمائیں (1) اِنْبَاؤُ الْمُصْطَفٰی بِحَالِ سِرٍّ وَّاَخْفٰی (حضورِ اَقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو  مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ  کا علم دئیے جانے کا ثبوت) (2 ) اِزَاحَۃُ الْعَیبْ بِسَیْفِ الْغَیبْ (علمِ غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اور بدمذہبوں کا رد) (3)   خَالِصُ الْاِعْتِقَادْ (علم غیب سے متعلق  120 دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب)

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے