ہر کلمہ پڑھنے والے کو مسلمان سمجھنے والوں حضور ﷺ نے قرآن نماز روزہ رکھنے والوں کو بھی ایمان سے خارج ہونے والا کہا ہیں فتنوں کا ظہور اور معاشرتی برائیوں کا عام ہوجانا ہر کلمہ پڑھنے والوں کو مسلمان سمجھوگے تو وہی تمہارا ایمان برباد کرینگے صبح کو مومن ہونگے تو شام کو کافر ہوجاینگے یا شام کو مومن ہونگے تو صبح کو کافر ہوجاینگے
ہر کلمہ پڑھنے والے کو مسلمان سمجھنے والوں حضور ﷺ نے قرآن نماز روزہ رکھنے والوں کو بھی ایمان سے خارج ہونے والا کہا ہیں فتنوں کا ظہور اور معاشرتی برائیوں کا عام ہوجانا ہر کلمہ پڑھنے والوں کو مسلمان سمجھوگے تو وہی تمہارا ایمان برباد کرینگے صبح کو مومن ہونگے تو شام کو کافر ہوجاینگے یا شام کو مومن ہونگے تو صبح کو کافر ہوجاینگے :-*
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے نیک اعمال کر لو، جو (فتنے) اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے، ایک شخص صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا، یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا اور معمولی سی دنیاوی منفعت کے عوض اپنی متاعِ ایمان فروخت کر ڈالے گا۔
*أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الحث علی المبادرۃ بالأعمال قبل تظاھر الفتن، 1/ 110، الرقم/ 118، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 303، الرقم/ 8017، والترمذي في السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء ستکون فتن کقطع اللیل المظلم، 4/ 487، الرقم/ 2195، وابن حبان في الصحیحِ، 15/ 96، الرقم/ 6704،*
------------------------------------
زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس لشکر میں تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لیے گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں سے ایک قوم ظاہر ہو گی وہ ایسا (خوب صورت) قرآن پڑھیں گے کہ ان کے پڑھنے کے سامنے تمہارے قرآن پڑھنے کی کوئی حیثیت نہ ہو گی، نہ ان کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی کچھ حیثیت ہوگی اور نہ ہی ان کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی حیثیت ہو گی۔ وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ وہ ان کے لیے مفید ہے لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے مضر ہو گا، نماز ان کے گلے سے نیچے نہیں اتر سکے گی اور وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
*أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ باب التحریض علی قتل الخوارج، 2/ 748، الرقم/ 1066، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 91، الرقم/ 706، وأبو داود في السنن، کتاب السنۃ، باب في قتال الخوارج، 4/ 244، الرقم/ 4768، والنسائي في السنن الکبری، 5/ 163، الرقم/ 8571، وعبد الرزاق في المصنف، 10/ 147،*
------------------------------------
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فتنوں کے زمانہ میں عبادت کرنے کا اجر میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہوگا۔
*أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب فضل العبادۃ في الہرج، 4/ 2268، الرقم/ 2948، وابن ماجہ في السنن، کتاب الفتن، باب الوُقوف عند الشُّبُہات، 2/ 1319، الرقم/ 3985- أحمد بن حنبل في المسند، 5/ 25، الرقم/ 20313، والطبراني في المعجم الکبیر، 20/ 212، الرقم/ 489*
Comments
Post a Comment