اہلے حدیث فرقے کی جہالت اس آیت اور حدیث میں جہاں بھی مسجد میں غیر اللہ کو پکار کی نفی ہیں وہاں معبود مان کے پکارنا منا ہیں مکّہ کے مشرکین کعبہ میں غیر خدا کو خدا سمجھکر پکارتے تھے بعض جاہل لوگ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ پکارنے کو حرام قرار دیتے ہیں حالانکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تو مسجد میں عین حالت ِ نماز میں پکارا جاتا ہے جب اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ کہا جاتا ہے:-
اہلے حدیث فرقے کی جہالت اس آیت اور حدیث میں جہاں بھی مسجد میں غیر اللہ کو پکار کی نفی ہیں وہاں معبود مان کے پکارنا منا ہیں مکّہ کے مشرکین کعبہ میں غیر خدا کو خدا سمجھکر پکارتے تھے بعض جاہل لوگ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ پکارنے کو حرام قرار دیتے ہیں حالانکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تو مسجد میں عین حالت ِ نماز میں پکارا جاتا ہے جب اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ کہا جاتا ہے:-*
ترجمۂ کنز العرفان
اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو *۔(سورۃ الجن آیت نمبر 18)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ : اور یہ کہ مسجدیں اللّٰہ ہی کی ہیں ۔} یعنی میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو مکان (بطورِ خاص) نماز ادا کرنے اور اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے بنائے گئے ہیں ان کا مالک اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے لہٰذا اے مسلمانو! جب تم ان مسجدوں میں جاؤ تو اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے گرجاؤں اور عبادت خانوں میں شرک کرتے تھے۔ *(خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۸ ، ۴ / ۳۱۸ ، جلالین، الجن، تحت الآیۃ: ۱۸ ، ص ۴۷۷ ، ملتقطاً )*
آیت ’’ وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: *اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں ،*
(1) وقف اور احترام کے احکام میں تمام مسجدیں برابر ہیں اگرچہ بعض مَساجد میں نماز ادا کرنے پر ملنے والے اجرو ثواب میں فرق ہے۔
(2) مسجد خاص اللّٰہ تعالیٰ کی ہے اور اس کے علاوہ کسی کی مِلک ہے نہ ہو سکتی ہے ۔
(3) شرک و بت پرستی ہر جگہ جرم ہے لیکن مسجد میں زیادہ جرم ہے کہ اس میں مسجد کی بے ادبی ہے ۔
Comments
Post a Comment