قرآن کی آیت کا ایسا ترجمہ جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہو وہ غلط ہوگا انبیاء کرام گنہہ سے محفوظ ہوتے ہیں دنیا اور حسر میں سب کے گنہہ حضور ﷺ صدقے معاف ہونگے اس کے باوجود قرآن حدیث کے ترجمہ میں لکھنا اپنے اگلے اور پیچھلے گنہہ کی معافی مانگوں یا اللہ‎ بخش دیگا یہ ترجمہ میں خیانت ہے کیا تم اپنے نبی کا گنہہ ثابت کر سکتے ہو :-

 قرآن کی آیت کا ایسا ترجمہ جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہو وہ غلط ہوگا انبیاء کرام گنہہ سے محفوظ ہوتے ہیں  دنیا  اور حسر  میں سب کے گنہہ حضور ﷺ  صدقے معاف ہونگے اس کے باوجود قرآن حدیث کے ترجمہ میں لکھنا اپنے اگلے اور پیچھلے گنہہ کی معافی مانگوں یا اللہ‎ بخش دیگا یہ ترجمہ میں خیانت ہے کیا تم اپنے نبی کا گنہہ ثابت کر سکتے ہو :-

 ترجمۂ کنز العرفان           

تاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارے اپنوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور اپنا انعام تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے۔ اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے۔(سورۃ الفتح آیت نمبر 2/3)

 تفسیر صراط الجنان            

{ لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ  : تاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارے اپنوں  کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے۔} اس سے پہلی آیت میں  فرمایا گیا کہ’’ہم نے آپ کے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا‘‘ اور اس آیت سے فتح کا فیصلہ فرما دینے کی عِلَّت بیان کی جا رہی ہے کہ اے حبیب!           صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہم نے آپ کے لئے روشن فتح کا فیصلہ فرما دیا تاکہ      اللہ   تعالیٰ آپ کے صدقے آپ کے اپنوں  کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور آپ کی بدولت امت کی مغفرت فرمائے۔     

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آیت ِمبارکہ کے اس حصے سے متعلق فتاویٰ رضویہ میں  بہت تفصیل سے کلام فرمایاہے ،اس میں  سے ایک جز کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’سورہِ فتح کی اس آیت ِکریمہ میں  موجود لفظ ’’ لَکَ ‘‘ میں  لام تعلیل کا ہے اور ’’ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ  ‘‘ سے مراد’’تمہارے اگلوں  کے گناہ‘‘ ہے اور اگلوں  سے میری مراد سیّدنا  عبداللہ  اور سیّدتنا آمنہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے لے کر نسب ِکریم کی انتہاء تک تمام آبائے کرام اور اُمّہاتِ طیّبات مراد ہیں،البتہ ان میں  سے جو انبیاء ِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام           ہیں  جیسے حضرت آدم ،شیث،نوح،خلیل اور اسماعیل  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ، وہ اس سے مُستَثنیٰ ہیں ،اور ’’ مَا تَاَخَّرَ ‘‘ سے مراد’’تمہارے پچھلے‘‘ یعنی ’’قیامت تک تمہارے اہلِ بیت اور امتِ مرحومہ ‘‘مراد ہے،تو آیت ِکریمہ کا حاصل یہ ہوا کہ ہم نے تمہارے لیے فتح ِمبین فرمائی تاکہ اللہ      تعالیٰ تمہارے سبب سے بخش دے تم سے تعلق رکھنے والے سب اگلوں  پچھلوں  کے گناہ۔ (فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۴۰۱، ملخصاً )     

نوٹ: اس آیت ِمبارکہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ، جلد 29، صفحہ 394 تا 401 کا مطالعہ فرمائیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے