اہلے حدیث کا عقیدہ ہیں اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں جو کفر ہے معاذ اللہ کیا فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو اٹھایا ہیں ؟ اہلے حدیث فرقہ اجتماعی دعا کو بدعت کہتے ہیں کیا فرشتے بھی بدعتی ہیں ؟ جو قرآن حدیث کے خلاف عقیدہ رکھے کیا وہ مسلمان ہیں ؟
اہلے حدیث کا عقیدہ ہیں اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں جو کفر ہے معاذ اللہ کیا فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو اٹھایا ہیں ؟ اہلے حدیث فرقہ اجتماعی دعا کو بدعت کہتے ہیں کیا فرشتے بھی بدعتی ہیں ؟ جو قرآن حدیث کے خلاف عقیدہ رکھے کیا وہ مسلمان ہیں ؟
ترجمۂ کنز العرفان
عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود (فرشتے) اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمانوں کی بخشش مانگتے ہیں ۔اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر شے سے وسیع ہے تو انہیں بخش دے جوتوبہ کریں اور تیرے راستے کی پیروی کریں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ اے ہمارے رب! اور انہیں اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو ہمیشہ رہنے کے ان باغوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے ،بیشک تو ہی عزت والا، حکمت والا ہے۔ اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے اور جسے تونے اس دن گناہوں کی شامت سے بچالیا تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا اور یہی بڑی کامیابی ہے *۔(سورۃ المؤمن آیت نمبر 7/9)*
تفسیر صراط الجنان
{اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ: عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود (فرشتے)۔} اس سے پہلی آیات میں بتایا گیاکہ کفار و مشرکین ایمان والوں سے بہت زیادہ عداوت اور دشمنی رکھتے اور انہیں نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں اور اس آیت سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود فرشتے جو کہ بہت افضل مخلوق ہیں وہ ایمان والوں سے انتہائی محبت اور الفت رکھتے ہیں اور ان کی بھلائی چاہنے میں مشغول رہتے ہیں ، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ عرش اٹھانے والے فرشتے جوبارگاہِ الٰہی میں خاص قرب اور شرف رکھتے ہیں نیزعرش کے ارد گرد موجود وہ فرشتے جو عرش کا طواف کر رہے ہیں ،یہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہٖ کہتے ہیں اور یہ فرشتے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے اور اس کی وحدانیّت کی تصدیق کرتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے بخشش مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیری رحمت اور علم ہرشے سے وسیع ہے، تو انہیں بخش دے جو اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور تیرے دین اسلام کے راستے کی پیروی کریں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، انہیں ہمیشہ رہنے کے ان باغوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو بھی ان باغات میں داخل فرما ،بیشک تو ہی عزت والا، حکمت والا ہے،اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے اور گناہوں کا عذاب ان سے دور کر دے اور جسے تونے قیامت کے دن گناہوں کی شامت سے بچالیا تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایااور یہ عذاب سے بچالیا جانا ہی بڑی کامیابی ہے۔ لہٰذا اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر یہ مشرکین آپ کی پیروی کرنے والوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تو آپ ان کی پرواہ نہ کریں کیونکہ مخلوق کے بہترین افراد آپ کی پیروی کرنے والوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ *( تفسیرکبیر، المؤمن، تحت الآیۃ: ۷-۹، ۹ / ۴۸۷-۴۹۳، خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۷-۹، ۴ / ۶۶-۶۷، جلالین، غافر، تحت الآیۃ: ۷-۹، ص۳۹۱، روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۷-۹، ۸ / ۱۵۵-۱۶۰، ملتقطاً)*
Comments
Post a Comment