اہلے حدیث فرقے والے اجتماعی دعا کو بدعت کہتے ہیں کیا حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھی بدعتی کہینگے
اس آیت کے متعلق ایک واقعہ اہلے حدیث فرقے والے اجتماعی دعا کو بدعت کہتے ہیں کیا حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھی بدعتی کہینگے :-
ترجمۂ کنز العرفان
گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا، بڑے انعام والاہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کی طرف پھرنا ہے۔ *(سورۃ المؤمن آیت نمبر 3)*
حضرت یزید بن اصم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ ایک آدمی بڑا طاقتور تھا اور شام کے لوگوں سے تعلق رکھتا تھا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے اپنے پاس نہ پایا تواس کے بارے میں پوچھا۔ عرض کی گئی: وہ تو شراب کے نشے میں دُھت ہے ۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کاتب کو بلایا اور اس سے فرمایا: لکھو! عمربن خطاب کی جانب سے فلاں بن فلاں کے نام، تم پر سلام ہو۔میں تمہارے سامنے اس اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ’’ غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِۙ-ذِی الطَّوْلِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ ‘‘ پھر آپ نے دعاکی اور جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے آمین کہی۔ انہوں نے اس آدمی کے حق میں یہ دعاکی کہ اللہ تعالیٰ اس پرنظر ِرحمت فرمائے اور اس کی توبہ قبول فرمائے۔ جب وہ خط اس آدمی تک پہنچا تووہ اسے پڑھنے لگا اور ساتھ میں یوں کہتا ’’ غَافِرِ الذَّنْۢبِ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے بخشش کاوعدہ کیاہے ۔ ’’ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے عذاب سے ڈرایا۔ ’’ ذِی الطَّوْلِ ‘‘ بہت زیادہ انعام فرمانے والاہے۔ ’’ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ ‘‘ وہ بار بار اسے اپنے اوپر دہراتا رہا یہاں تک کے رونے لگا،پھر اس نے گناہوں سے توبہ کی اور بہترین توبہ کی ۔جب حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تک اس کا معاملہ پہنچا تو آپ نے فرمایا:تم اسی طرح کیاکرو کہ جب تم کسی کو لغزش کی حالت میں دیکھو تو اسے درست ہونے کا موقع دو،نیز اللہ تعالیٰ سے دعا کروکہ وہ توبہ کرلے اور اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جاؤ۔ *( درمنثور، غافر، تحت الآیۃ: ۳ ، ۷ / ۲۷۰ - ۲۷۱)*
اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو کسی کے گناہ میں مبتلا ہونے کے بارے میں جاننے کے بعد اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس سے وہ اپنے گناہوں سے باز آنے کی بجائے اور زیادہ گناہوں پر بے باک ہو جاتا ہے، انہیں چاہئے کہ گناہگار سے نفرت نہ کریں بلکہ اس کے گناہ سے نفرت کریں اور اسے اس طرح نصیحت کریں جس سے اسے گناہ چھوڑ دینے اور نیک اعمال کرنے کی رغبت ملے ،وہ اپنے اعمال کی اصلاح کرنے اور گناہوں سے توبہ کرنے کی طرف مائل ہو اور پرہیزگار انسان بننے کی کوشش شروع کردے،نیز اس کی اصلاح اور توبہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو بھی رہے ، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اسے گناہوں سے توبہ اور نیک اعمال کرنے کی توفیق مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گناہگار مسلمانوں کی احسن انداز میں اصلاح کرنے کی توفیق عطافرمائے ، اٰمین۔
Comments
Post a Comment