بے ادب لوگ ادب کے لئے بخاری کا حوالہ مانگتے ہیں عاجزی کرنے والے خود سے خود کی فضیلت بیان نہیں کرتے حضور ﷺ کا ادب سیکھنا ہے تو رب کا کلام اور صحابہ کے اقوال میں ملیگا بے ادب نہ قرآن کی تفسیر پڑھتے ہیں نہ صحابہ کے اقوال کو دلیل مانتے ہیں آیت لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ کے نزول کے بعد صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا حال:-

 بے ادب لوگ ادب کے لئے بخاری کا حوالہ مانگتے ہیں عاجزی کرنے والے خود سے خود کی فضیلت بیان نہیں کرتے حضور ﷺ کا  ادب سیکھنا ہے تو رب کا کلام  اور صحابہ کے اقوال میں ملیگا بے ادب نہ قرآن کی تفسیر پڑھتے ہیں نہ صحابہ کے اقوال کو دلیل مانتے ہیں آیت لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ   کے نزول کے بعد صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کا حال:-* 

جب یہ آیت ِمبارکہ نازل ہوئی تو صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ  بہت  محتاط ہو گئے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے گفتگو کے دوران بہت سی احتیاطوں کو اپنے اوپر لازم کر لیا تاکہ آواز زیادہ بلند نہ ہو جائے، نیز اپنے علاوہ دوسروں کو بھی اس ادب کی سختی سے تلقین کرتے تھے ،اسی طرح آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد آپ کے روضۂ انور کے پاس (خود بھی آواز بلند نہ کرتے اور)  دوسروں  کو بھی آواز اونچی کرنے سے منع کرتے تھے ،یہاں  اسی سے متعلق 6  واقعات ملاحظہ ہوں :  

(1) حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  :جب یہ آیت ’’  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ   نازل ہوئی تو میں نے عرض کی:   یا  رسولَ اللہ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اللہ  تعالیٰ کی قسم!   آئندہ میں  آپ سے سرگوشی کے انداز میں  بات کیا کروں    گا۔  *(کنزالعمال،کتاب الاذکار،قسم الافعال،فصل فی تفسیر،سورۃ الحجرات،  ۱ / ۲۱۴، الجزء الثانی، الحدیث: ۴۶۰۴)*  

(2) حضرت   عبداللہ بن زبیر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا حال یہ تھا کہ آپ رسولِ کریم    صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی بارگاہ میں  بہت   آہستہ آواز سے بات کرتے حتّٰی کہ بعض اوقات حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو بات سمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو۔  *( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجرات،   ۵/ ۱۷۷ ، الحدیث: ۳۲۷۷ )*  

(3) حضرت انس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں  : جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   اپنے گھر میں  بیٹھ گئے اور   ( اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے)   کہنے لگے: میں  اہلِ نار سے ہوں ۔ (جب یہ کچھ عرصہ بارگاہِ رسالت میں  حاضر نہ ہوئے تو)  حضورِ اَقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت سعد بن معاذ  رَضِیَ اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ   سے اُن کا حال  دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کی: وہ میرے پڑوسی ہیں اور میری معلومات کے مطابق انہیں  کوئی بیماری بھی نہیں  ہے۔ حضرت سعد  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حضرت ثابت  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے کہا:یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم لوگ جانتے ہو کہ میں  تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں  (اور جب ایسا ہے)  تو میں  جہنمی ہوگیا ۔حضرت سعد   رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   نے یہ صورت ِحال حضور پُرنور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں  عرض کی تو آپ نے ارشاد   فرمایا: ’’  (وہ جہنمی نہیں )   بلکہ وہ جنت والوں  میں سے ہیں ۔  *( مسلم، کتاب الایمان، باب مخافۃ المؤمن ان یحبط عملہ، ص۷۳  ، الحدیث: ۱۸۷(۱۱۹)  )*  

 *نوٹ:*  صحیح مسلم کی اس روایت میں  حضرت سعد بن معاذ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا ذکر ہے اور تفسیر ابنِ منذر میں   حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہی مروی یہی واقعہ مذکور ہے، اس میں  حضرت سعد بن معاذ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کی بجائے حضرت سعد بن عبادہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا ذکر ہے ،اس کے بارے میں  علامہ ابنِ حجر عسقلانی  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :   حضرت سعد بن عبادہ       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے پوچھنا زیادہ  درست ہے کیونکہ آپ کا تعلق حضرت ثابت بن قیس  رَضِیَ اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ  کے قبیلہ  (خزرج)   سے ہے اور حضرت سعد بن معاذ     رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کے مقابلے میں ان کا حضرت ثابت  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا پڑوسی ہونا زیادہ واضح ہے کیونکہ حضرت سعد بن معاذ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ     کا تعلق دوسرے قبیلے  (یعنی اَوس)  سے تھا۔  *( فتح الباری، کتاب المناقب، باب علامات النّبوۃ فی الاسلام، ۷ / ۵۱۷  ، تحت الحدیث: ۳۶۱۳)*  

نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنو تمیم کا وفد سر کارِ دو عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور یہ سن 9  ہجری کا واقعہ ہے جبکہ   حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  تو سن   5  ہجری میں غزوہ بنوقریظہ کے بعد وفات پا گئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کی وفات نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے وصالِ ظاہری کے بہت بعد کی ہے ۔  

(4)  حضرت نعمان بن بشیر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :میں  رسولِ کریم     صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے منبر کے پاس تھا،ایک شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں  کو پانی پلانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے۔دوسرے شخص نے کہا: اسلام لانے کے بعد اگر میں   مسجد ِحرام کو آباد کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے۔تیسرے شخص نے کہا:  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرنا تمہاری کہی ہوئی باتوں  سے افضل ہے۔حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے انہیں  ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ’’  رسولُ  اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے  منبر کے پاس اپنی آواز بلند نہ کرو۔  *( مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الشّہادۃ فی سبیل اللّٰہ تعالی، ص  ۱۰۴۴ ، الحدیث:  ۱۱۱(۱۸۷۹)  )*  

(5) ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے مسجد ِنَبوی میں  دو شخصوں  کی بلند آواز سنی تو آپ  (ان کے پاس)  تشریف لائے اور فرمایا’’کیا تم دونوں  جانتے ہو کہ کہاں  کھڑے ہو؟پھر ارشاد فرمایا: تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ دونوں  نے عرض کی:ہم طائف کے رہنے والے ہیں  :ارشاد فرمایا:اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں (یہاں  آواز بلند کرنے کی وجہ سے)   تمہیں ضرور سزا دیتا (کیونکہ مدینہ منورہ میں  رہنے والے دربارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے آداب سے خوب واقف ہیں )  ۔  *( ابن کثیر، الحجرات، تحت الآیۃ: ۲ ، ۷ / ۳۴۳)*  

( 6 ) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں  :امیر المومنین عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے روضۂ انور کے پاس کسی کو اونچی آواز سے بولتے دیکھا، فرمایا: کیا اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند کرتاہے، اور یہی آیت     (  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ  )   تلاوت کی۔ (ہوسکتا ہے کہ واقعہ وہی ہو جو اوپر چار نمبر کے تحت بیان ہوا ہے۔)  *( فتاوی رضویہ، ۱۵ /   ۱۶۹)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے