نبی کے الفاظ سے بھی مدد ملتی ہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا:-
نبی کے الفاظ سے بھی مدد ملتی ہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا:-*
دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے وہ کلمات بھی مفید ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمائے اور وہ کلمات بھی انتہائی فائدہ مند ہیں جو سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمائے ہیں ، چنانچہ حضرت عبدالله بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جب کسی قوم سے خطرہ ہوتا تو آپ یہ دعا ارشاد فرماتے تھے ’’ اَللّٰھُمَّ اِنَّانَجْعَلُکَ فِیْنُح ُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ ‘‘ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے مقابلے میں ہم تجھے لاتے ہیں اور ان کے شر اور فساد سے تیری پناہ میں آتے ہیں ۔ *(سنن ابوداؤد، کتاب الوتر، باب ما یقول الرجل اذا خاف قوما،۲/ ۱۲۷، الحدیث: ۱۵۳۷)*
*اکثر مولوی صرف دلیل سے لوگوں کو گمرہا کرتے ہیں دلیل تو کافروں کے پاس بھی ہوتی ہیں صرف وہی دلیل قابل قبول ہوگی جو قرآن حدیث کے مطابق ہو :-*
ترجمۂ کنز العرفان
وہ جو اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی ایسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں جو انہیں ملی ہو، یہ بات اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک کس قدر سخت بیزاری کی ہے۔ اللہ ہرمتکبر سرکش کے دل پر اسی طرح مہر لگا دیتا ہے۔ *(سورۃ المؤمن آیت نمبر 35)*
تفسیر صراط الجنان
{ اَلَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ : وہ جو اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی ایسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں ۔} یعنی حد سے بڑھنے والے اور شک کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلا کر اور ان پر اعتراضات کر کے جھگڑا کرتے ہیں اور ان کا یہ جھگڑا کسی ایسی دلیل کے ساتھ نہیں ہوتا جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہو بلکہ محض آباؤ اَجداد کی اندھی تقلید اور جاہلانہ شُبہات کی بنا پر ہوتا ہے اور یہ جھگڑا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک انتہائی سخت بیزاری کی بات ہے اور جس طرح ان جھگڑا کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دی اسی طرح اللہ تعالیٰ ہرمتکبر سرکش کے دل پر مہر لگادیتا ہے کہ اس میں ہدایت قبول کرنے کا کوئی محل باقی نہیں رہتا۔ *(خازن ، حم المؤمن ، تحت الآیۃ : ۳۵، ۴ / ۷۲ ، تفسیرکبیر ، المؤمن ، تحت الآیۃ: ۳۵، ۹ / ۵۱۳ - ۵۱۴ ، روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۳۵ ، ۸ / ۱۸۱ - ۱۸۲ ، ملتقطاً )*
Comments
Post a Comment