گناہ گاروں کے لئے عبرت اور نصیحت حضور ﷺ تمام نبیوں کی امّت پر گواہ ہیں گواہ وہی ہوتا ہیں جو مشاہدہ کرتا ہے :-

 گناہ گاروں کے لئے عبرت اور نصیحت حضور ﷺ تمام  نبیوں کی امّت  پر گواہ ہیں گواہ وہی ہوتا ہیں جو مشاہدہ کرتا ہے :- 

   ترجمۂ کنز العرفان     

اور ہر جان کو اس کے اعمال کا بھر پور بدلہ دیا جائے گا اور وہ (اللہ ) خوب جانتا ہے جو لوگ کرتے ہیں ۔ *(سورۃ الزمر آیت نمبر 70)* 

 تفسیر صراط الجنان      

{  وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ  : اور ہر جان کو اس کے اعمال کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا۔}   یعنی قیامت کے دن ہر جان کو اس کے اچھے یا برے تما م اعمال کا بھر پور بدلہ دیا جائے گا اور  اللہ تعالیٰ ان اعمال کوخوب جانتا ہے جو لوگ کرتے ہیں ،  اس سے کچھ مخفی نہیں  اور نہ اسے گواہ اور لکھنے والے کی حاجت ہے بلکہ یہ سب لوگوں  پر حجت تمام کرنے کیلئے ہوں  گے۔  *(روح البیان، الزّمر، تحت الآیۃ: ۷۰،   ۸ / ۱۴۰  -  ۱۴۱ ، جمل، الزّمر، تحت الآیۃ:۷۰  ، ۶ / ۴۵۱ ، ملتقطاً)*  

اس آیت ِمبارکہ میں  خاص طور پر ان لوگوں  کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں  اور گناہوں  میں  مصروف ہیں  ،انہیں  یاد رکھنا چاہئے کہ قیامت کے دن سے زیادہ طویل دن اور کوئی نہیں  اس دن سے زیادہ ہَولْناک دن اور کوئی نہیں  اور اس دن اعمال کا حساب لئے جانے کے مرحلے سے زیادہ خطرناک مرحلہ اور کوئی نہیں  ،اس دن کی دہشت ، شدت اور ہَولْناکی بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:  ’’  فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ۫-وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ  ‘‘ *( اٰل عمران:  ۲۵)*  

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں   اس دن کے لئے اکٹھا کریں  گے جس میں  کوئی شک نہیں  اور ہر جان کو اس کی پوری کمائی دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔  

اور ارشاد فرماتا ہے : ’’  فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُؕ-وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا  ‘‘  *( سورۃ نساء:  ۴۱ ، ۴۲)*  

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں  سے ایک گواہ لائیں  گے اور اے حبیب! تمہیں  ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں  گے۔اس دن کفار اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں  گے کہ کاش انہیں  مٹی میں  دبا کر زمین برابر کردی جائے اور وہ کوئی بات اللہ   سے چھپانہ سکیں  گے۔  

لہٰذا اس نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر گناہگار کو چاہئے کہ وہ اپنے گناہوں  سے باز آ جائے اور   اللہ   تعالیٰ کی بارگاہ میں  اپنے تمام گناہوں  سے سچی توبہ کر لے تاکہ قیامت کے دن گناہوں کی سزا سے بچ سکے ۔  اللہ  تعالیٰ ہمیں  گناہوں  سے بچنے،سابقہ گناہوں  سے سچی توبہ کرنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-