گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا رشتہ کیسا؟
گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا رشتہ کیسا؟*
اور سرکار صلی الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی اور بدگوئی کرنے والوں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی نفرت فرماتے تھے اور بلالحاظ ناطہ و رشتہ قتل بھی کردیتے تھے 📚 *سنن ابو داؤد. ،* کتاب الحدود ، باب الحکم فیمن سبّ النبی صلی الله عليه وسلم، *صفحہ، 813، پر،*
*حدیث نمبر، 4361* ،
ہے کہ ایک نابینا صحابی کی ایک باندی تھی، وہ سرکار صلی الله عليه وسلم کو سبّ و شتم کیا کرتی، اور بدگوئی کرتی تھی ۔ وہ منع کرتے مگر باز نہ آتی ۔ڈانٹ ڈپٹ کرتے پھر بھی نہ رکتی ➖ فلمّا کانت ذات لیلۃ جعلت تقع فی النبی صلی الله عليه وسلم و تشتمہ فاخذ المغول فوضعہ فی بطنھا واتّکا علیھا فقتلھا فوقع بین رِجلیھا طفل فلطخت ماھناک بالدم ۔الی آخرالحدیث،
ایک رات وہ سرکار صلی الله عليه وسلم کی بدگوئی اور سب وشتم کرتی رہی ۔ پس اس نابینا صحابی نے خنجر لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور دباؤ ڈال کر اسے قتل کر دیا ۔چنانچہ اس کے دونوں پیروں کے درمیان سے بچہ بھی گرگیا اور وہاں جو کچھ تھا وہ سب خون میں لت پت ہو گیا ۔صبح کے وقت حضور صلی الله عليه وسلم کی بارگاہ میں اس بات کا ذکر ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع فرماکر فرمایا ۔ میں ایسا کرنے والے کو الله تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں اور اپنے حق کی جو میرا اس پر ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے تو وہ نابینا صحابی کھڑے ہوگئے ۔ اور لوگوں کو پھاندتے اور کانپتے ہوئے بڑھے، یہاں تک کہ سرکار صلی الله عليه وسلم کے سامنے جابیٹھے ۔اور عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! صلی الله عليه وسلم ،، میں اس کا مالک تھا ، وہ آپ کو سب و شتم کرتی اور ہجو کیا کرتی تھی ۔ منع کرنے سے بھی باز نہیں آتی تھی، اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے بھی نہیں رکتی تھی ۔اس سے موتیوں جیسے میرے دو بیٹے ہیں اور وہ میری غم خوار بھی تھی ۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو سب و شتم کرنے لگی اور ہجو گوئی کی تو میں نے خنجر لے لر اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اس پر دباؤ ڈال کر اسے قتل کر دیا ۔ تو حضور صلی الله عليه وسلم نے فرمایا ۔ الا اشھدوا ان دمھا ھدر،، خبر دار گواہ رہنا کہ اس کا خون رائیگاں گیا یعنی اس کے قتل پر کوئی مواخذہ نہیں
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی کی قیمت اسی وقت ہے ، جب وہ الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله عليه وسلم سے محبت رکھے اور ان کا وفا دار رہے ۔۔۔اور اگر الله و رسول سے محبت نہ رکھے اور ان کی بدگوئی، سب وشتم اور ہجو کرے تو وہ رشتہ میں چاہے کوئی بھی ہو، وہ کسی لائق نہیں، اور اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔ اور وہ قابل گردن زنی ہے
Comments
Post a Comment