حضور ﷺ علم غیب سے جنّتی مومن کے دل کا حال بھی جانتے ہیں اہل جنت اپنے مقام اور جنتی نعمتوں کو پہچانتے ہوں گے

 حضور ﷺ  علم غیب سے جنّتی مومن کے دل کا حال بھی جانتے ہیں اہل جنت اپنے مقام اور جنتی نعمتوں  کو پہچانتے ہوں  گے :- 

 حدیثِ پاک میں  عام جنتیوں  کے بارے میں  بھی اسی طرح کی فضیلت بیان کی گئی ہے ،جیسا کہ حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مومنین دوزخ سے نجات پاجائیں  گے جنت اوردوزخ کے درمیان ایک پل ہے اس پران کوروک لیاجائے گا پھر دنیا میں  ان میں  سے بعض نے بعض پرجو زیادتی کی ہوگی اس کا ان سے بدلہ لیاجائے گاحتّٰی کہ وہ بالکل پاک وصاف ہوجائیں  گے تو پھر ان کوجنت میں  داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی پس اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں  محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جان ہے ان میں  سے ایک شخص جنت میں  اپنے ٹھکانے کو دنیا میں  اپنے ٹھکانے کی بہ نسبت زیادہ پہچاننے والاہوگا۔ *( بخاری، کتاب الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ، ۴ / ۲۵۶، الحدیث: ۶۵۳۵)* 

 *شہید کے فضائل:* 

(1) حضرت مِقْدام بن مَعدیکَرِب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  شہید کی چھ خصلتیں  ( یعنی درجے) ہیں  ،(1) پہلی ہی دفعہ میں  اسے بخش دیا جاتا ہے۔ (2) اسے جنت کا ٹھکانا دکھادیا جاتا ہے۔ (3) اسے قبر کے عذاب سے امان دی جاتی ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں  رہے گا۔ (4) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یا قوت دنیا اور دنیا کی چیزوں  سے بہتر ہوگا۔ (5) 72حورِعِین سے اس کا نکاح کیا جائے گا ۔(6) او راس کے 70 قریبی رشتہ داروں  کے بارے میں  اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔ *( ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب فی ثواب الشہید، ۳ / ۲۵۰، الحدیث: ۱۶۶۹)* 

(2) حضرت قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’شہید کو چھ خصلتیں  عطا کی جاتی ہیں  (1) اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں ۔ (2) اسے جنت کا ٹھکانا دکھادیا جاتا ہے۔ (3) حورِ عِین سے اس کا نکاح کیا جائے گا۔(4،5) بڑی گھبراہٹ اور قبر کے عذاب سے امن میں  رہے گا۔(6) اسے ایمان کا حُلّہ پہنایا جائے گا۔ *(مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث قیس الجذامی رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۶ / ۲۳۴، الحدیث: ۱۷۷۹۸)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے