حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آسمان و زمین اور مشرق و مغرب کے درمیان جو کچھ ہیں سب کا علم رکھتے ہے اس میں قیامت کا وقت بھی شامل ہیں

 حضورِ اَقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آسمان و زمین اور مشرق و مغرب کے درمیان جو کچھ ہیں سب کا علم رکھتے ہے اس میں قیامت کا وقت بھی شامل ہیں :- 

ترجمۂ کنز العرفان       

مجھے عالَمِ بالا کی کوئی خبر نہیں تھی جب وہ بحث کررہے تھے۔ *(سورۃ ص آیت نمبر 69)* 

 اللہ تعالیٰ نے اس کا علم بھی آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو عطا کیا جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا کہ میں  اپنے بہترین حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے مشرف ہوا  (حضرت عبداللہ بن عباس       رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  کہ میرے خیال میں  یہ واقعہ خواب کا ہے)       حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے محمد! (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) تمہیں معلوم ہے کہ  عالَمِ بالا کے فرشتے کس بحث میں ہیں ۔میں نے عرض کی:’’ نہیں ۔ حضور پُر نور  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: پھر  اللہ  تعالیٰ نے اپنا دستِ رحمت و کرم میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا اور میں  نے اس کے فیض کا اثر اپنے قلب ِمبارک میں  پایا تو آسمان و زمین کی تمام چیزیں  میرے علم میں آگئیں پھر  اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے محمد!  (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )    کیا تم جانتے ہو کہ عالَمِ بالا کے فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث کررہے ہیں ؟ میں نے عرض کی:’’ ہاں ،اے رب!  عَزَّوَجَلَّ ، میں جانتا ہوں ، وہ کَفّارات میں بحث کررہے ہیں  اور کَفّارات یہ  ہیں ، نمازوں کے بعد مسجد میں ٹھہرنا ، پیدل جماعتوں     کے لئے جانا ، جس وقت سردی وغیرہ کے باعث پانی کا استعمال ناگوار ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا ۔جس نے یہ کیا اس کی زندگی بھی بہتر ،موت بھی بہتر اور وہ گناہوں سے ایسا پاک صاف نکلے گا جیسا اپنی ولادت کے دن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ اے محمد! (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نماز کے بعد یہ دعا کیا کرو:  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنَ وَاِذَا اَرَدْتَّ    بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَمَفْتُوْنْ  ‘‘ *(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ص، ۵/ ۱۵۸، الحدیث:۳۲۴۴)*   

بعض روایتوں  میں  یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’مجھ پر ہر چیز روشن ہوگئی اور میں  نے پہچان لی۔ *( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ص،۵/ ۱۶۰ ، الحدیث: ۳۲۴۶)*   

 اور ایک روایت میں ہے کہ جو کچھ مشرق و مغرب میں ہے سب میں نے جان لیا ۔ *( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ص، ۵/ ۱۵ ، الحدیث: ۳۲۴۵)*   

 علامہ علاؤ الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو کہ خازن کے نام سے  معروف ہیں ، اپنی تفسیر میں ’’دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھنے اور ٹھنڈک محسوس ہونے ‘‘کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سینۂ مبارک کھول دیا اور قلب شریف کومُنَوّر کردیا اور جن چیزوں  کو کوئی نہ جانتا ہو ان سب کی معرفت آپ کو عطا کردی حتّٰی کہ آپ نے نعمت و معرفت کی ٹھنڈک اپنے قلب ِمبارک میں پائی اور جب قلب  شریف منور ہوگیا اور سینہ ٔ پاک کھل گیا تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں  میں     ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جان لیا۔   *(خازن، ص، تحت الآیۃ: ۷۰، ۴ / ۴۶)*   

 *مخلوق کا خوف دور کرنے کا وظیفہ: -*  

 علامہ اسماعیل حقی  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جو کوئی  ’’ *یَاقَہَّارُ*   ‘‘ روزانہ ایک ہزار بار پڑھ لیا کرے تو اس کے دل سے مخلوق ( کا خوف)  دور ہو جائے گا۔ *(روح البیان، ص، تحت الآیۃ: ۶۵ ، ۸/ ۵۵)* 

 *جہنمیوں  کی پیپ کی کیفیت:-* 

  حضرت ابو سعید خدری   رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے،  رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا’’اگر غَسّاق یعنی جہنمیوں  کی پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو پوری دنیا والے بد بو دار ہو جائیں ۔ *(ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، ۴/ ۲۶۳ ، الحدیث:  ۲۵۹۳ )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے