حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی کا بھی یہی عقیدہ ہیں مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے حضور ﷺ سے شفاعت کی درخواست کرنی چاہئے دیگربزرگانِ دین کا عمل تعظیم رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :-

 حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی کا بھی یہی عقیدہ ہیں مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے حضور ﷺ سے شفاعت کی درخواست کرنی چاہئے  دیگربزرگانِ دین کا عمل تعظیم رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :- 

صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ   نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری حیات ِمبارکہ میں  بھی اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی آپ کی بارگاہ کا بے حد ادب و احترام کیا اور  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ کے جو آداب انہیں تعلیم فرمائے انہیں  دل و جان سے بجا لائے، اسی طرح ان کے بعد تشریف لانے والے دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ نے بھی دربارِ رسالت  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے آداب کا خوب خیال رکھا اور دوسروں کو بھی وہ آداب بجا لانے کی تلقین کی ،چنانچہ یہاں ان کی سیرت کے اس پہلو سے متعلق  3   واقعات ملاحظہ ہوں :  

(1)  ابو جعفر منصور بادشاہ مسجد ِنَبوی میں  حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ایک مسئلے کے بارے میں  گفتگو کررہا تھا،  (اس دوران اس کی آواز کچھ بلند ہوئی تو)   امام مالک  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اس سے فرمایا:   اے مسلمانوں  کے امیر! اس   مسجد میں  آواز بلند نہ کر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک جماعت کو ادب سکھایا اور فرمایا:  لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ  *(حجرات: ۲)*  

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اپنی آوازیں   نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔  

اور ایک جماعت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:   اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ *(حجرات: ۳)*  

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : بیشک جو لوگ  اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں  یہی وہ لوگ ہیں  جن کے دلوں کو  اللہ  نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔  

 اور ایک جماعت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:  اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ  *( حجرات:۴)*  

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر   سے پکارتے ہیں  ان میں  اکثر بے عقل ہیں ۔  

بے شک وصال کے بعد بھی   حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت ایسی ہے جیسی آپ کی ظاہری   حیات میں تھی۔  (یہ سن کر)   ابو جعفر نے عاجزی کا اظہار کیا اور کہا: اے ابو عبداللہ  میں  قبلہ رُو ہوکر دعا کروں  یا، رسولُ     اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طرف رخ کروں ؟ امام مالک  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا: تُو حضورِ اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے کیوں  رُخ پھیرتا ہے حالانکہ حضورِانور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  قیامت کے دن   اللہ   تعالیٰ کی بارگاہ میں  تیرے اور تیرے جد ِاَمجد حضرت آدم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام     کے وسیلہ ہیں ، تُو حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی طرف رُخ کر اور شفاعت کی درخواست کر، اللہ تعالیٰ تیرے لئے شفاعت قبول فرمائے گا۔  *( الشفا، القسم الثانی، الباب الاول، فصل واعلم ان حرمۃ النّبی   صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ، ص  ۴۱  ، الجزء الثانی )*  

(2) امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ (مسجد ِنَبوی میں درس دیا کرتے تھے ،جب ان)   کے حلقہ ٔدرس میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی : آپ ایک آدمی مقرر کر لیں  جو (آپ سے حدیث پاک سن کر)   لوگوں  کو سنا دے ۔امام مالک  رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:  اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ  *(حجرات: ۲)*  

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔  

اور رسولِ کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی عزت و حرمت زندگی اور وفات دونوں میں برابر ہے   (اس لئے میں  یہاں کسی شخص کوآواز بلند کرنے کے لئے ہر گز مقرر نہیں کر سکتا)  *(الشفا، القسم الثانی، الباب الاول، فصل واعلم ان حرمۃ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم  الخ، ص۴۳، الجزء الثانی )*  

( 3 ) حضرت سلیمان بن حرب رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :ایک دن حضرت حماد بن زید رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حدیث پاک بیان کی توایک شخص کسی چیز کے بارے میں کلام کرنے لگ گیا، اس پر حضرت حماد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ غضبناک ہوئے اور کہا:  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:  لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ  ‘‘  ( *حجرات:  ۲)*                         

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔  

اور میں کہہ رہاہوں  کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا جبکہ تم کلام کر رہے ہو   (یعنی آواز اگرچہ میری ہے لیکن کلام تو حضورِ اَقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ہے،پھر تم اس کلام کو سنتے ہوئے کیوں  گفتگوکر رہے ہو) *(شعب الایمان، الخامس عشر من شعب الایمان  الخ،۲ /۲۰۶ ، روایت نمبر: ۱۵۴۶)* 

 یہاں اس آیت سے متعلق   3  اَہم باتیں    ملاحظہ ہوں :  

(1 )  بارگاہِ رسالت  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا جو ادب و احترام اس آیت میں  بیان ہوا، یہ آپ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ کے ساتھ ہی خاص نہیں  ہے بلکہ آپ کی وفات ِظاہری سے لے کر تا قیامت بھی یہی ادب و احترام باقی ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں :اب بھی حاجیوں کو حکم ہے کہ جب روضۂ پاک پر حاضری نصیب   ہو تو سلام بہت آہستہ کریں اور کچھ دور کھڑے ہوں بلکہ بعض فُقہا نے تو حکم دیاہے کہ جب حدیث ِپاک کا درس ہو رہا ہو تو وہاں دوسرے لوگ بلند آواز سے نہ بولیں    کہ اگرچہ بولنے والا  (یعنی حدیث ِپاک کا درس دینے والا) اور ہے مگر کلام تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  کا ہے *(شان حبیب الرحمٰن،ص  ۲۲۵)*  

(2) بارگاہِ رسالت  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں ایسی  آواز بلند کرنا منع ہے جو آپ کی تعظیم وتوقیر کے برخلاف  ہے اور بے ادبی کے زُمرے میں  داخل ہے اور اگر اس سے بے ادبی اور توہین کی نیت ہو تو یہ کفر ہے، لہٰذا جنگ کے دوران یا اَشعار کی صورت میں کفار کی مذمت بیان کرنے کے دوران صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کی جو آوازیں  بلند ہوئیں  وہ  اس آیت میں داخل نہیں  کیونکہ یہ تعظیم و توقیر کے خلاف نہ تھیں  بلکہ بعض مقامات پر نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اجازت سے تھیں ،اسی طرح اذان کے وقت جو آواز بلند ہوئی وہ بھی اس میں داخل نہیں  کیونکہ اذان ہوتی ہی بلند آواز سے ہے۔  

(3)  علماء ِکرام کی مجالس میں بھی آواز بلند کرنا ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ انبیاء ِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے وارث ہیں۔  *(  قرطبی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۲ ، ۸ / ۲۲۰  ، الجزء السادس عشر  )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے