اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کو وسیلہ سمجھنا شرک نہیں سجدہ تعظیم حرام ہیں حرام کو شرک سمجھنا مسلمان کے لئے بد گمانی اور بوہتان حرام ہیں شرک کا علذام کفر ہیں عبادت اور عقیدہ کا تعلق نیت سے ہیں :-

 اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کو وسیلہ سمجھنا شرک نہیں سجدہ تعظیم حرام ہیں حرام کو شرک سمجھنا  مسلمان کے لئے بد گمانی اور بوہتان حرام ہیں شرک کا علذام کفر ہیں عبادت اور عقیدہ کا تعلق نیت سے ہیں :-

 ترجمۂ کنز العرفان       

سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور مددگار بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں : ہم تو ان بتوں کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے زیادہ نزدیک کردیں ۔ اللہ ان کے درمیان اس بات میں فیصلہ کردے گا جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا، بڑا ناشکرا ہو۔ *(سورۃ الزمر آیت نمبر 3)* 

  یاد رہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل ہونے کا وسیلہ سمجھنا شرک نہیں  کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنے کا قرآنِ پاک میں حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ  *(مائدہ:۳۵)*   

 *ترجمہکنزُالعِرفان* : اے ایمان والو! اللہ  سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔   

البتہ جسے وسیلہ سمجھا جائے اسے معبود جاننا اور اس کی پوجا کرنا ضرور شرک ہے۔ یہ فرق سامنے رکھتے ہوئے اگر انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عِظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ  کو اللہ  تعالیٰ سے قرب حاصل ہونے کا وسیلہ سمجھنے سے متعلق اہلِ حق کا عقیدہ اور نظرِیَّہ دیکھا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ ان کا یہ عقیدہ شرک ہر گز نہیں ، کیونکہ وہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء ِعظام  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ  کو معبود نہیں  مانتے اور نہ ہی ان کی عبادت کرتے ہیں بلکہ معبود صرف اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں  اور صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں جبکہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ مان کر اس کی بارگاہ تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ سمجھتے ہیں ۔آیت میں مشرکوں  کی بتوں کو وسیلہ ماننے کی تردید دو وجہ سے ہے۔ ایک تو اِس وجہ سے کہ وہ وسیلہ ماننے کے چکر میں  بتوں کو خدا بھی مانتے تھے جیسا کہ ان کا اپنا قول آیت میں  موجود ہے کہ ہم ان کی عبادت اِس لئے کرتے ہیں  کہ یہ ہمیں خدا کے قریب کردیں ۔ دوسرا رد اِس وجہ سے ہے کہ وسیلہ ماننا اصل میں انہیں شفیع یعنی شفاعت کرنے والا ماننا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  شفاعت کی اجازت اَنبیاء و اَولیاء و صُلحاء کو ہے نہ کہ بتوں  کو، تو بتوں کو شفیع ماننا خدا پر جھوٹ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے