لوگوں کے عمال اور کلام بھی اللہ‎ تعالیٰ کی مخلوق ہیں

*لوگوں کے عمال اور کلام بھی اللہ‎ تعالیٰ کی مخلوق ہیں :- 
قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ(۹۵) وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ (۹۶)
 ترجمۂ کنز العرفان       
فرمایا: کیا تم ان کی عبادت کرتے ہوجنہیں خود تراشتے ہو؟ اور اللہ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ۔ *(سورۃ الصفت آیت نمبر 95/96)* 
 تفسیر صراط الجنان        
{ قَالَ : فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ گفتگو کے بعد حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  نے کافروں سے فرمایا: کیا تم ان بتوں کی عبادت کرتے ہوجنہیں  تم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہیں     اور  تمہارے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور جوخالق ہے وہی در حقیقت عبادت کے لائق ہے جبکہ مخلوق کسی طرح بھی عبادت کی مستحق نہیں *(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۹۵- ۹۶ ،  ۷ / ۴۷۱)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-