بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد کون ہے جس نے علم غیب کا اظہار سننے کے باد ایمان قبول کیا
بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد کون ہے جس نے علم غیب کا اظہار سننے کے باد ایمان قبول کیا :-
ترجمۂ کنز العرفان
تم فرماؤ: بھلا دیکھو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم اس کا انکار کرو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہے تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا۔بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ *(سورۃ الاحقاف آیت نمبر 10)*
جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ مدینہ منورہ میں ایمان لائے۔ *(مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۰ ، ص ۱۱۲۵ )*
آپ کے ایمان لانے سے متعلق حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے سناکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے ہیں تووہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: میں آپ سے تین ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا جن کونبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(1) قیامت کی پہلی علامت کیاہے ؟(2 ) اہلِ جنت کا پہلا کھانا کون سا ہوگا؟ (3 ) بچہ اپنے باپ یاماں کے کیسے مشابہ ہوتاہے ؟ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک جمع کرے گی اوراہلِ جنت کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کا ٹکڑا ہوگا اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تووہ بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتاہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پرغالب آجائے تووہ بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔حضرت عبداللہ بن سلام نے (یہ سن کر) کہا: ’’ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَ اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، بے شک یہودی بہت بہتان تراش قوم ہے، اگر ان کو میرے اسلام کا آپ کے اُن سے پوچھنے سے پہلے علم ہوگیا تووہ مجھ پربہتان لگائیں گے ۔ پھر یہودی آئے تونبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے سوال کیا’’ تم میں عبداللہ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں ، ان کے والد بھی ہم میں سب سے بہترتھے،وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں ۔ارشاد فرمایا: ’’اگر عبداللہ بن سلام مسلمان ہوجائیں تو تم کیا کہو گے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ان کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ پھر حضرت عبداللہ بن سلام باہر نکلے اور کہا: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَ اَشْھَداَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ ‘‘ تو یہود یوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بُرے ہیں ، سب سے بُرے شخص کے بیٹے ہیں اور ان کی برائیاں بیان کیں ۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، مجھے اسی چیز کاخدشہ تھا۔ *(بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ: من کان عدوّا لجبریل،۳/ ۱۶۶، الحدیث: ۴۴۸۰)*
*نوٹ :-* قیامت کی پہلی نشانی سے مراد قیامت کے باد حسر کی پہلی نشانی ہیں
Comments
Post a Comment