حضور ﷺ خواب کے علم غیب سے فتح مکّہ کا پہلے سے علم رکھتے تھے اور کسی کے خواب میں حضور ﷺ کا آنا اس امتی کا اختیار نہیں ہوتا حضور ﷺ کا اختیار ہوتا اور اس کی ذات اس کا حال سے بھی واقف ہوتے ہیں کون کب کتنا دورود پاک پڑھتا ہیں یہ سب علم غیب اور اختیار ہیں :-

 حضور ﷺ خواب کے علم غیب سے فتح مکّہ کا پہلے  سے علم رکھتے تھے اور کسی کے خواب میں حضور ﷺ کا آنا اس امتی کا اختیار نہیں ہوتا حضور ﷺ کا اختیار ہوتا اور اس کی ذات اس کا حال سے بھی واقف ہوتے ہیں کون کب کتنا دورود پاک پڑھتا ہیں یہ سب علم غیب اور اختیار ہیں :- 

ترجمۂ کنز العرفان       

بیشک اللہ نے اپنے رسول کا سچا خواب سچ کردیا ۔ اگر اللہ چاہے توتم ضرور مسجد حرام میں امن و امان سے داخل ہوگے، کچھ اپنے سروں کے بال منڈاتے ہوئے اور کچھ بال ترشواتے ہوئے ، تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ تو اللہ کو وہ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں تو اس نے مکے میں داخلے سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی ہے۔ *(سورۃ الفتح آیت نمبر 27)* 

 تفسیر صراط الجنان        

{ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ : بیشک اللہ  نے اپنے رسول کا سچا خواب سچ کردیا۔}  شانِ نزول: رسولِ کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حُدَیْبِیَہ کا قصد فرمانے سے پہلے مدینہ طیبہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ اپنے اصحاب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کے ساتھ مکہ مُعَظَّمہ میں  امن سے داخل ہوئے اور اَصحاب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ   میں  سے بعض نے سر کے بال منڈائے اور بعض نے ترشوائے ۔یہ خواب  آپ نے اپنے اصحاب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ   سے بیان فرمایا تو انہیں  خوشی ہوئی اور انہوں نے خیال کیا کہ اسی سال وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوں  گے۔ جب مسلمان حدیبیہ سے صلح کے بعد واپس ہوئے اور اس سال مکہ مکرمہ میں  ان کا داخلہ نہ ہوا تو منافقین نے مذاق اڑایا، طعنے دئیے اور کہا : اس خواب کا کیا ہوا؟ اس پر  اللہ  تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس خواب کے مضمون کی تصدیق فرمائی کہ ضرور ایسا ہوگا، چنانچہ اگلے سال ایسا ہی ہوا اور مسلمان اگلے سال بڑی شان و شوکت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں  فاتحانہ داخل ہوئے۔   

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے  حبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا سچا خواب سچ کردیا، اگر اللہ تعالیٰ چاہے توتم ضرور مسجد ِحرام میں  امن و امان سے داخل ہوگے، کچھ اپنے سروں کے تمام بال منڈاتے ہوئے اور کچھ تھوڑے سے بال ترشواتے  ہوئے ،تمہیں     کسی دشمن کا ڈر نہیں ہوگا اور  اللہ تعالیٰ کو وہ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں  یعنی یہ کہ تمہارا داخل ہونا اگلے سال ہے اور تم اسی سال سمجھے تھے اور تمہارے لئے تاخیر بہتر تھی کہ اس کے باعث وہاں  کے ضعیف مسلمان پامال ہونے سے بچ گئے تو اس نے مکے میں  داخلے سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی ہے کہ جس فتح کا وعدہ کیا گیا اس کے حاصل ہونے تک مسلمانوں کے دل اس سے راحت پائیں ۔ نزدیک آنے والی فتح سے مراد خیبر کی فتح ہے۔ *(خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۷، ۴ / ۱۶۱، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۱۱۴۶ -۱۱۴۷ ، ملتقطاً)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-