ماں کے پیٹ میں کیا ہیں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جانتے ہیں حضرت اسحق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جو نبی بھی ہیں انکار کرنے والوں اپنے علم کا انکار کرو نبی کے علم کا نہیں

*ماں کے پیٹ میں کیا ہیں حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام جانتے ہیں حضرت اسحق  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جو نبی بھی ہیں انکار کرنے والوں اپنے علم کا انکار کرو نبی کے علم کا نہیں :- 
 ترجمۂ کنز العرفان             
اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت اتاری اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والاہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔ *(سورۃ الصفت آیت نمبر 112/113)* 
 تفسیر صراط الجنان              
{ وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ  : اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی۔} ذبح کا واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت اسحق  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کی خوشخبری دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل  عَلَیْہِ       الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  ہیں ۔      
{ وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ : اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری۔}       یعنی ہم نے حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام اور حضرت اسحاق  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  پر دینی اور دُنْیَوی ہر طرح کی برکت اتاری اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کی اولاد میں  کثرت کی اور حضرت اسحاق  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کی نسل سے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  سے لے کر حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک بہت سے انبیاء ِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام       مبعوث کئے۔ *(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ:       ۱۱۳، ص۱۰۰۸ )*      
{ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ  : اور ان کی اولاد میں  کوئی اچھا کام کرنے والاہے۔}       یعنی ان دونوں  کی اولاد میں  سے کوئی ایمان لا کر اچھا کام کرنے والا ہے اور کوئی کفر کر کے اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی باپ کے بکثرت فضائل والا ہونے سے اولاد کا بھی ویسا ہی ہونا لازم نہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی شانیں  ہیں  کہ کبھی نیک سے نیک پیدا کرتا ہے کبھی بد سے بد اور کبھی بد سے نیک ،تاکہ نہ اولاد کا بدہونا آباء کے لئے عیب ہو اورنہ آباء کی بَدی اولاد کے لئے باعث ِعار ہو ۔ *(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ:       ۱۱۳، ص ۱۰۰۸ ، خازن، والصافات، تحت الآیۃ:       ۱۱۳ ، ۴ / ۲۴ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-