بزرگانِ دین کا فتویٰ حضور ﷺ کی پسند کو اگر کسی نے نہ پسند کہا تو تجدیدِ ایمان کا حکم اب تو لوگ گستاخوں کو اپنا امام مانتے ہیں بزرگانِ دین کی پسندیدہ سبزی:-*
بزرگانِ دین کا فتویٰ حضور ﷺ کی پسند کو اگر کسی نے نہ پسند کہا تو تجدیدِ ایمان کا حکم اب تو لوگ گستاخوں کو اپنا امام مانتے ہیں بزرگانِ دین کی پسندیدہ سبزی:-*
کدو (یعنی لوکی) کو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہت پسند فرماتے تھے ،جیسا کہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کدو شریف پسند فرماتے تھے۔ *(ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الدبّائ، ۴/ ۲۷ ، الحدیث: ۳۳۰۲)*
ایک مرتبہ کسی نے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں ۔رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ ہاں ،یہ میرے بھائی حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا درخت ہے۔ *(بیضاوی، الصافات، تحت الآیۃ:۱۴۶، ۵/ ۲۷)*
یونہی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور بزرگانِ دین رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ بھی کدو بہت پسند فرماتے تھے، چنانچہ حضرتِ انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کھانے کی دعوت کی ،میں بھی حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ گیا ، جَوکی روٹی اور شور با حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے لایا گیا جس میں کدو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا، کھانے کے دوران میں نے حضورِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا کہ پیالے کے کناروں سے کدو کی قاشیں تلاش کررہے ہیں ، اسی لئے میں اس دن سے کدو پسند کرنے لگا۔ *(بخاری، کتاب البیوع، باب ذکر الخیّاط،۲ / ۱۷، الحدیث: ۲۰۹۲)*
حضرت ابو طالوت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس حاضر ہوا،وہ کدو کھا رہے تھے اور فرما رہے تھے ’’اے درخت!تیری کیا شان ہے،تو مجھے کس قدر محبوب ہے (اور یہ محبت صرف) اس لئے (ہے) کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تجھے محبوب رکھا کرتے تھے۔ *(ترمذی، کتاب الاطعمۃ، باب ما جاء فی اکل الدبّائ،۳/ ۳۳۶، الحدیث: ۱۸۵۶)*
امامِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے شاگرد امام ابو یوسف رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سامنے جب اِس روایت کا ذکر آیا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کدو پسند فرماتے تھے ، تو مجلس کے ایک شخص نے کہا:لیکن مجھے پسند نہیں ۔یہ سن کر امام ابو یوسف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے تلوار کھینچ لی اور اس سے فرمایا: ’’ جَدِّدِ الْاِیْمَانَ وَاِلاَّ لَاَقْتُلَنَّکَ ‘‘ تجدیدِ ایمان کر، ورنہ میں تمہیں قتل کئے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ *(مرقاۃالمفاتیح، کتاب الصلاۃ،باب الجماعۃ وفضلہا، الفصل الثالث، ۳/ ۱۶۶، تحت الحدیث: ۱۰۸۳۔)*
Comments
Post a Comment