اولیا اللہ کامل پیر سے بیعت اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ سے بیعت ہیں اس لئے کے بیعت دین کے احکام کے لئے ہوتی ہیں :-
اولیا اللہ کامل پیر سے بیعت اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ سے بیعت ہیں اس لئے کے بیعت دین کے احکام کے لئے ہوتی ہیں :-
لغوی معنی ترميم :-دینی و دنیاوی امور میں شریعت کی پیروی کرنے کے لیے کسی کو رہبر و رہنما ماننے اور اس کے کہنے پر عمل کرنے کا عہد (بیشتر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر)
اصطلاحی معنی ترميم :- دینی اصطلاح۔ کسی پیغمبر، ولی یا صاحب نسبت بزرگ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے گناہوں سے تائب ہونا اور اس بزرگ کی اطاعت کا اقرار کرنا۔
حقیقت ِبیعت ترميم :- بیعت جو اپنے اندر بیع کا معنی لیے ہوئے ہے شیخ کے ہاتھ بک جانا ہے۔ جس میں اپنے کو شیخ کے ہاتھ احکام ظاہرہ و باطنہ کے التزام کے واسطے گویا بیچ دیا۔ جس کی حقیقت یہ ہے کہ طالب کو اپنے شیخ پر پورا اعتقاد اور کلی اعتماد ہو کہ یہ میرا خیر خواہ ہے جو مشورہ دے گا وہ میرے لیے نہایت نافع ہو گا۔ اس پر پورا اطمینان ہو۔ اس کی تجویز و تشخیص میں دخل نہ دے۔ یوں یقین رکھے کہ دنیا بھر میں میری جستجو اور میری تلاش میں میرے نفع کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ اس کو اصطلاح تصوف میں وحدتِ مطلب کہا جاتا ہے۔ اس کے بغیر بیعت ہونا نافع نہیں۔ کیونکہ اصلاح نفس کے لیے شیخ سے مناسبت شرط ہے اور مناسبت کی پہچان یہی ہے کہ اس کی تعظیم اور قول و فعل اور حال پر قلب میں اعتراض نہ ہو۔ بالفرض اگر قلب میں اعتراض آئے تواس سے رنجیدہ ہو ، اور گھٹن محسوس کرے۔ عوام کے لیے بیعت کی صورت البتہ نافع ہوتی ہے۔ بیعت سے ان کے قلب پر ایک عظمت اور شان ،شیخ کی طاری ہو جاتی ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے قول کو با وقعت سمجھ کر اس پر عمل کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے۔ خواص کے لیے کچھ مدت کے بعد بیعت نافع ہوتی ہے۔ بیعت سے جانبین میں ایک خلوص اور تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ شیخ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ ہمارا ہے اور ُمرید سمجھتا ہے کہ یہ ہمارے ہیں۔ ڈانواں ڈول حالت نہیں رہتی ۔
سنت نبوی ترميم :- رسول اللہ ہر اس شخص سے جو داخل اسلام ہوتا بیعت لیا کرتے۔ اور اس سے بُرے اعمال کے ترک اور اچھے کاموں کے کرنے کا عہد لیتے تھے۔ طریقہ بیعت اپنی ظاہری صورت کے ساتھ ایک معنویت بھی رکھتا ہے۔ جسے تصوف کی زبان میں رابطہ یا نسبت کہتے ہیں۔ یہ ایک روحانی قوت ہوتی ہے اور خاموشی کے ساتھ نسبت سے نسبت لینے والے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اس روحانی قوت کا ایک اور نام بھی ہے جسے قوت افادہ یا افاضہ کہتے ہیں۔ یہ قوت اس وقت تک اپنا اثر نہیں دکھاسکتی جب تک نسبت لینے والے میں قوت استفادہ (حصول منفعت، بہرہ وری، فائدہ اٹھانا، نفع پانا) یا استفاضہ ( فیض پانا یا طلب کرنا) موجود نہ ہو۔
دور صحابہ ترميم :- خلفائے راشدین کے دور تک ہر مسلمان کا فرض تھا کہ وہ خلیفہ وقت کی بیعت کرے۔ جب خلافت کی جگہ امارت نے لی تو بزرگوں نے لوگوں سے احکام الہٰی کی تعمیل کے لیے بیعت لینا شروع کر دی۔ اس کے علاوہ امیر بھی جب بر سر اقتدار آتے تو عوام سے بیعت لیتے
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے تو جس نے عہد توڑا تو وہ اپنی جان کے خلاف ہی عہد توڑتا ہے اور جس نے اللہ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو بہت جلد اللہ اسے عظیم ثواب دے گا۔(سورۃ الفتح آیت نمبر 10)
تفسیر صراط الجنان
{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ : بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ۔} اس سے پہلی آیات میں حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت اور اس کے مَقاصِد بیان ہوئے اور اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت کی اس نے اللہ تعالیٰ سے بیعت کی ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، بیشک جولوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ ہی سے بیعت کرتے ہیں کیونکہ رسول سے بیعت کرنا اللہ تعالیٰ ہی سے بیعت کرنا ہے جیسے کہ رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور جن ہاتھوں سے انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیعت کا شرف حاصل کیا ،ان پر اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت ہے تو جس نے عہد توڑا اور بیعت کو پورا نہ کیا وہ اپنی جان کے خلاف ہی عہد توڑتا ہے کیونکہ اس عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو بہت جلد اللہ تعالیٰ اسے عظیم ثواب دے گا۔ ( تفسیرکبیر، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۰ ، ۱۰ / ۷۳ ، جلالین، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۰ ، ص ۴۲۳-۴۲۴ ، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۰ ، ص ۱۱۴۲ ، ملتقطاً )
نوٹ: اس آیت میں جس بیعت کا ذکر کیا گیا اس کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ بیعت ہے جوحُدَیْبِیَہ کے مقام پر حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے لی تھی اور یہ بیعت ’’بیعت ِرضوان‘‘ کے نام سے مشہورہے ۔اس بیعت کاواقعہ اسی سورت کی آیت نمبر 18 کی تفسیر میں مذکور ہے۔
آیت ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
(1) حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسا قرب حاصل ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت اللہ تعالیٰ سے بیعت ہے ۔
(2 ) بیعت ِرضوان والے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بڑی ہی شان والے ہیں ۔
(3) حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بڑی شان والے ہیں کہ یہ بیعت انہیں کی وجہ سے ہوئی۔
(4) بزرگوں کے ہاتھ پر بیعت کرناصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی سنت ہے ، خواہ بیعت ِاسلام ہو یا بیعتِ تقویٰ، یا بیعت ِتوبہ، یا بیعت ِاعمال وغیرہ۔
(5) بیعت کے وقت مصافحہ بھی سنت سے ثابت ہے،البتہ عورتوں کوکلام کے ذریعے بیعت کیاجائے کیونکہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی بھی بیعت کے لیے کسی غیر مَحرم عورت کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا۔
Comments
Post a Comment