منافقین کا بیان منافقین اللہ‎ اور آخرت پر ایمان کا تو اقرار کرتے تھے مگر حضور ﷺ کی عظمت کو نہیں مانتے تھے آج بھی ایسے لوگ میل جاینگے

*منافقین  کا بیان منافقین اللہ‎ اور آخرت پر ایمان کا تو اقرار کرتے تھے مگر حضور ﷺ کی عظمت کو نہیں مانتے تھے آج بھی ایسے لوگ میل جاینگے :-
 اور لوگوں میں سے بعض وہ (بھی) ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (ہرگز) مومن نہیں ہیں -
 *البقرہ، 8* 
وہ اللہ کو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)٭ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (فی الحقیقت) وہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے-  *البقرہ، 9* 
آیت نمبر 8، 9 میں منافقت کی دو علامات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے-
دعویٰ ایمان صرف زبانی حد تک کرنا اور باطن کا اُس کی تصدیق سے خالی ہونا -
ان آیات کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان پر ایمان نہیں رکھتے۔ کیونکہ ان کا قول ایمان زبان کے اقرار کی حد تک ہے مگر دل کی تصدیق سے محروم ہے۔ اس بیان سے یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ جو بات محض زبان سے کہی جائے دل اس کی تصدیق و تائید نہ کر رہا ہو تو یہ منافقت کی سب سے پہلی پہچان ہے۔ خواہ کہی ہوئی بات خدا و آخرت پر ایمان لانے کی ہی کیوں نہ ہو۔ جب ایسی پاکیزہ بات کا، جو اسلام اور ایمان کا اصل الاصول ہے صرف زبان سے ادا ہونا خدا کے ہاں منافقت ہے تو زندگی کے عام معاملات میں باہمی گفتگو اور تعلقات کا یہ انداز منافقت کیوں نہ قرار پائے گا۔ اس معیار کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے شب و روز کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم جس کسی سے جو کچھ بھی کہتے ہیں کیا دل سے کہتے ہیں یا محض زبان سے۔ اگر دل کی کیفیت ہماری زبان کی ہمنوا نہ ہو تو زبان میں تاثیر کہاں سے آئے اور اس منافقانہ رویہ زندگی میں برکت و نتیجہ خیزی کہاں سے پیدا ہو؟
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (تم بھی) ایمان لاؤ جیسے (دوسرے) لوگ ایمان لے آئے ہیں، تو کہتے ہیں: کیا ہم بھی (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح (وہ) بیوقوف ایمان لے آئے، جان لو! بیوقوف (درحقیقت) وہ خود ہیں لیکن انہیں (اپنی بیوقوفی اور ہلکے پن کا) علم نہیں-  *البقرہ 13* 
اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں-   *البقرہ 14* 
محض توحید و آخرت پر ایمان کو کافی سمجھنا اور رسالتِ محمدی پر ایمان اس قدر ضروری نہ سمجھنا:- 
دوسری علامت جس کا اشارہ ان آیات کے ظاہر عبارت سے ملتا ہے وہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سوء ظن ہے کیونکہ منافقین کے دعوی ایمان کی طرف جو الفاظ منسوب ہوئے ہیں ان میں صرف ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر ہے۔ ایمان بالرسالت کا نہیں کیونکہ منافقین کو اصل عداوت اور بغض و عناد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے تھا جس کے باعث ان کے مفاد پرستانہ عزائم خاک میں مل گئے تھے۔ اس لئے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا ظاہری اعلان بھی کرتے تو اس انداز سے کہ گویا خدا اور آخرت پر ایمان ہی مسلمان ہونے کے لئے کافی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان غیر ضروری تصور کرتے تھے۔ اس لئے یہاں قرآن مجید میں ان کے دعوی ایمان کے مذکورہ الفاظ ایمان بالرسالت کے ذکر سے خال ہیں جب کبھی یہ منافقین حضور علیہ السلام کی رسالت کا ظاہراً اقرار بھی کرتے تو یہ اقرار بھي سچا نہ ہوتا بلکہ دل کے انکار اور تعصب و عناد کے باعث سراسر جھوٹ ہوتا۔ جس کا ذکر سورہ منافقین کی پہلی آیت میں یوں آیا ہے:-
‘‘(اے حبیبِ مکرّم!) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقینا آپ اُس کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا منافق لوگ جھوٹے ہیں’’ *المنافقون، 63: 1* 
اس اعلان خداوندی سے یہ بات واضح ہو گئی کہ منافق فی الواقع حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے قائل نہ تھے اور جو کوئی ثبوت ان کے اقرار رسالت کی نسبت ملتا ہے وہ قرآنی وضاحت کے مطابق محض جھوٹ اور مکر و فریب تھا۔ اس جگہ بھی رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہمیت کو گھٹاتے بلکہ نظر انداز کرتے ہوئے وہ اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعوی کر رہے ہیں جس کا جواب قرآن نے وَمَاهُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ کے الفاظ میں دیا ہے کہ جو لوگ پیکر رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صحیح ایمان کے بغیر خدا و آخرت پر ایمان لانے کی بات کرتے ہیں، ان کا دعوی ایمان باطل اور مردود ہے اور وہ منافق ہیں۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی پر کامل ایمان کے بغیر وہ کس خدا اور کس یوم آخرت کو مانتے ہیں جب کہ خدا اور آخرت کی معرفت و شناسائی بھی انسانیت کو نبی اور رسول کی ذات ہی کے توسط سے ہوتی ہے جب اُس ذات پر ایمان نہ رہا تو باقی عقائد کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟ اس لئے ایمان بالرسالت کے بغیر باقی دعوی ایمان کو منافقت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس دور میں منافقت کی یہ صورت ذات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و محبت کے فقدان یا کمی کی شکل میں بھی دیکھی جا سکتی ہے اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کے انکار کی شکل میں بھی۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے