اسلام کو چھوڑ دینا (اِرتداد) قرآن حدیث کے خلاف عقیدہ رکھنے سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا لاکھ خود کو مسلمان کہوں تمہیں کفر سے نہیں روک سکتا عقیدہ کا علم سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہیں :-
اسلام کو چھوڑ دینا (اِرتداد) قرآن حدیث کے خلاف عقیدہ رکھنے سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا لاکھ خود کو مسلمان کہوں تمہیں کفر سے نہیں روک سکتا عقیدہ کا علم سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہیں :-
اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اسلام وہ سچامذہب ہے جو ہماری دُنیوی واُخروی کامیابی کا ضامِن ہے ، اسلام بچوں ، جوانوں ، بوڑھوں ، مردوں ، عورتوں ، ماؤں ، بیٹیوں ، حاکم و محکوم حتی کہ جانوروں تک کے لئے امن وسلامتی فراہم کرتا ہے ، فردہو یا معاشرہ! دونوں کے لئے اسلام بہترین نظامِ عمل ہے ، یہی وہ دین ہے جواس کائنات کو پیدا کرنے والے ربِّ کریم کا پسندیدہ دین ہے۔ بڑا خوش نصیب ہے وہ شخص جسے ایمان کی دولت ملی اور وہ ایمان کی سلامتی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو ا ، اس کی آخری منزل مقامِ رحمت یعنی جنت ہے اور بڑا ہی بدنصیب ہے وہ شخص جو اس دولت سے محروم رہا یا نورِ اسلام سے چمکنے دَمکنے کے بعد کفر کی تاریکیوں میں جاپڑا ، ایسا شخص دنیا وآخرت میں خسارہ پانے والا ہے ، اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ قراٰ نِ کریم پارہ 2 ، سورۂ بقرہ کی آیت 217 میں فرمانِ ربِّ عظیم ہے :
وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۱۷) *(پ۲ ، البقرۃ : ۲۱۷)*
*ترجمۂکنزالایمان* : اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔
مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ’’تفسیر صراط الجنان ‘‘کی پہلی جلد کے صفحہ 334 پر اس آیت کے تحت ہے : مُرتَد ہونے سے تمام عمل باطل ہوجاتے ہیں ، آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجر وثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت حکومتِ اسلامیہ کو مرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے ۔ مرد مرتد ہوجائے تو بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے۔ مرتد شخص اپنے رشتے داروں کی وراثت پانے کا مستحق نہیں رہتا ، مرتد کی تعریف کرنا اور اس سے تعلق رکھنا جائز نہیں ہوتا۔ چونکہ مرتد ہونے سے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیںلہٰذا اگر کوئی حاجی مرتد ہوجائے پھر ایمان لائے تو وہ دوبارہ حج کرے ، پہلا حج ختم ہوچکا۔ اسی طرح زمانۂ اِرتداد میں جو نیکیاں کیں وہ قبول نہیں۔ جو حالتِ اِرتداد میں مرگیا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا جیسا کہ آیت کے آخر میں هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ فرمایا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہر مسلمان کو خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔ یاد رکھیں کہ مرتد ہونا بہت سخت جرم ہے۔ افسوس کہ آج کل مسلمانوں کی اکثریت دین کے بنیادی عقائد سے لاعلم ہے۔ شادی و مرگ اور ہنسی مذاق کے موقع پر کفریہ جملوں کی بھرمار ہے۔ گانے باجے ، فلمیں ڈرامے خصوصاً مزاحیہ ڈرامے کفریات کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ، ان چیزوں سے بچانے والے علوم کا حاصل کرنا فرض ہے۔ *(صراط الجنان ، ۱ / ۳۳۴)*
Comments
Post a Comment