ایمان ایسی چیز نہیں کے تم دین میں کچھ بھی بکواش کرتے رہو پھر بھی مسلمان رہو غلط مسائل بیان کرنے سے ایمان دل سے نکل جاتا ہیں عالم کو اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو وہ خاموش رہے اور اپنی طرف سے گھڑ کر نہ بتائے

 ایمان ایسی چیز نہیں کے تم دین میں کچھ بھی بکواش کرتے رہو پھر بھی مسلمان رہو غلط مسائل بیان کرنے سے ایمان دل سے نکل جاتا ہیں عالم کو اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو وہ خاموش رہے اور اپنی طرف سے گھڑ کر نہ بتائے:-* 

ترجمۂ کنز العرفان   

تم فرماؤ: میں اِس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا اور میں جھوٹ گھڑنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔ یہ تو سارے جہان والوں کیلئے نصیحت ہی ہے۔ اور ضرور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر جان لو گے۔

 اس آیت سے اشارۃً معلوم ہوا کہ عالِم کو اگر کوئی مسئلہ معلوم نہ ہوتو وہ خاموشی اختیار کرے اور خود گھڑ کر نہ بتائے کہ یہ بھی تکَلُّف میں  داخل ہے۔ حضرت مسروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں   ’’ایک شخص کِندہ میں  یہ بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن ایک ایسا دھواں آئے گا جو منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں داخل ہو جائے گا اور اہلِ ایمان کو اس سے صرف اتنی تکلیف پہنچے گی جیسے زکام ہو جاتا ہے۔یہ سن کر ہم ڈر گئے، چنانچہ میں حضرت  عبداللہ  بن مسعود  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور وہ ٹیک لگائے  ہوئے تھے  (جب میں  نے واقعہ بیان کیا )  تو وہ غضبناک ہوئے، پھر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا’’جو کسی بات کو جانتا ہو تو کہے اور جو نہ جانتا ہو تو اسے کہنا چاہئے کہ  اللہ  تعالیٰ خوب جانتا ہے کیونکہ یہ بھی علم ہی سے ہے کہ جس بات کو نہ جانے تو کہہ دے کہ میں  نہیں  جانتا ،کیونکہ اللہ  تعالیٰ نے نبی کریم  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سے فرمایا:  قُلْ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ ‘‘ 

 *ترجمہکنزُالعِرفان* : تم فرماؤ: میں  اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں   مانگتا اور میں   جھوٹ گھڑنے والوں  میں   سے نہیں ہوں۔ *(بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الم، ۳/۴۹۷ ، الحدیث:  ۴۷۷۴ )* 

حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے ایک خطبے میں  فرمایا’’جو آدمی کسی چیز کا علم رکھتا ہو تو اسے چاہئے  کہ وہ لوگوں کو سکھائے اور وہ بات کہنے سے بچے جس کا علم نہ رکھتا ہو ورنہ وہ دین سے نکل جائے گا اور تکَلُّف کرنے والوں میں  سے ہو گا۔ *(  سنن دارمی، المقدمۃ، باب فی الذی یفتی الناس فی کلّ ما یستفتی، ۱/  ۷۴ ، الحدیث: ۱۷۴ )* 

اللہ  تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-