جن کو حضور ﷺ کی تعظیم ادب میں شرک حرام نظر وہ صحابہ کے اقوال دیکھے حضرت عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے :-

 جن کو حضور ﷺ کی تعظیم ادب میں شرک حرام نظر وہ صحابہ کے اقوال دیکھے حضرت عبداللہ بن رواحہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا ’’حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے :- 

 ترجمۂ کنز العرفان           

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم ان میں صلح کرادو پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کروادو اور عدل کرو، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ *(سورۃ الحجرات آیت نمبر 9)* 

 تفسیر صراط الجنان            

{  وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا  : اور اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑپڑیں  تو تم ان میں  صلح کروادو۔} شا نِ نزول: ایک مرتبہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے ،اس دوران انصار کی مجلس کے پاس سے گزرہوا تووہاں  تھوڑی دیر ٹھہرے ، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو  عبداللہ بن اُبی نے ناک بند کرلی۔یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا ’’حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور پُر نور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تو تشریف لے گئے لیکن ان دونوں  میں  بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں  آپس میں  لڑپڑیں  اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی، صورتِ حال معلوم ہونے پر سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  واپس تشریف لائے اور ان میں  صلح کرادی، اس معاملے کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا’’ اے ایمان والو! اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑپڑیں  تو تم سمجھا کر ان میں  صلح کرادو،پھر اگر ان میں  سے ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی کرے اور صلح کرنے سے انکار کر دے تو مظلوم کی حمایت میں  اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں  تک کہ وہ  اللہ  تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ،پھر اگر وہ  اللہ  تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ دونوں  گروہوں  میں  صلح کروادو اور دونوں  میں  سے کسی پر زیادتی نہ کرو (کیونکہ اس جماعت کو ہلاک کرنا مقصود نہیں  بلکہ سختی کے ساتھ راہِ راست پر لانا مقصود ہے)   اور صرف اس معاملے میں  ہی نہیں  بلکہ ہر چیز میں  عدل کرو، بیشک  اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں  سے محبت فرماتا ہے تو وہ انہیں  عدل کی اچھی جزادے گا۔  *(جلالین مع صاوی ، الحجرات ، تحت الآیۃ : ۹ ،۵ / ۱۹۹۲-۱۹۹۳، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۹ ، ص۱۱۵۳ ، روح البیان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۹ ، ۹ / ۷۳-۷۶، ملتقطاً )

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے