حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا عقیدہ ہیں پرہیزگار دوست موت کے باد بھی اپنے دوست کے لئے دعا کرتا ہیں اس لئے اولیا اللہ‎ سے دعا کی درخواست کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے محبت قیامت کے دن کام آئے گی:-*

 حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا عقیدہ ہیں پرہیزگار دوست موت کے باد بھی اپنے دوست کے لئے دعا کرتا ہیں اس لئے اولیا اللہ‎ سے دعا کی درخواست کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں  سے محبت قیامت کے دن کام آئے گی:-* 

   ترجمۂ کنز العرفان     

اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ *(سورۃ الزخرف آیت نمبر 67)* 

 تفسیر صراط الجنان      

حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے اس آیت کی تفسیر میں    مروی ہے، آپ نے فرمایا: دو دوست مومن ہیں  اور دو دوست کافر ۔مومن دوستوں    میں ایک مرجاتا ہے تو بارگاہِ الٰہی میں  عرض کرتا ہے: یارب! عَزَّوَجَلَّ  ، فلاں   مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری کرنے کا اور نیکی کرنے کا حکم کرتا تھا اور مجھے برائی سے روکتا تھا اور یہ خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضر ہونا ہے، یارب!  عَزَّوَجَلَّ  ، اسے میرے بعد   گمراہ نہ کرنا اور اسے ایسی ہدایت دے جیسی ہدایت مجھے عطا فرمائی اور اس کا ایسا اِکرام کر جیسا میرا اِکرام فرمایا ۔جب اس کا مومن دوست مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دونوں کو جمع کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم میں  ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے ،تو ہر ایک کہتا ہے کہ یہ اچھا بھائی ہے، اچھا دوست ہے، اچھا رفیق ہے۔ اور دوکافر دوستوں میں سے جب ایک مرجاتا ہے تو دعا کرتا ہے: یارب!  عَزَّوَجَلَّ ، فلاں  مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرماں برداری سے منع کرتا تھا اور بَدی کا حکم دیتا تھا ،نیکی سے روکتا تھا اور یہ خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حا ضر نہیں ہونا ،تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں  سے ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ان میں سے ایک دوسرے کو بُرا بھائی، بُرا دوست اور بُرا رفیق کہتا ہے۔  *(خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ:۶۷ ، ۴ / ۱۰۹  -  ۱۱۰)*  

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایمان والوں کی آپس میں    محبت اور دوستی قیامت کے  دن کام آئے گی، لہٰذا اہلِ حق کا انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور  اللہ  تعالیٰ  کے اولیاء  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ   سے محبت اور عقیدت رکھنا انہیں  ضرور نفع دے گا۔ صحیح بخاری میں حضرت انس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ ایک شخص نے   عرض کی،  یا رسولَ  اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، قیامت کب ہوگی؟ ارشاد فرمایا: تُو نے اس کے لیے کیاتیاری کی   ہے؟ اس نے عرض کی، اس کے لیے میں نے کوئی تیاری نہیں  کی، صرف اتنی بات ہے کہ میں        اللہ   عَزَّوَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت رکھتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا ’’تو ان کے ساتھ ہے جن سے تجھے محبت ہے۔حضرت   انس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کہتے ہیں  کہ اسلام کے بعد مسلمانوں کو جتنی اس   کلمہ سے خوشی ہوئی، ایسی خوشی میں نے کبھی نہیں  دیکھی۔  *(بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم   ، باب مناقب عمر بن الخطاب الخ ، ۲ /  ۵۲۷  ، الحدیث:   ۳۶۸۸  ، مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب الحب فی اللّٰہ ومن اللّٰہ، الفصل الاول، ۲ / ۲۱۸  ، الحدیث:   ۵۰۰۹ )*  

لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اور پرہیز گار بندوں  کو اپنا دوست بنائے اور ان سے محبت رکھے تاکہ آخرت میں ان کی دوستی اور محبت کام آئے ۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے