قرآن کی کچھ آیات میں محاورے کا استعمال ہوتا ہیں کافر نہ اندھے تھے نامردے نہ قبر میں تھے جو محاورے کی آیت کو نہیں سمجھتے ہے وہ قرآن کو سمجھنے سے اندھے اور مردے ہیں نہ سنانے کی نصبت حضور ﷺ کی طرف ہیں مطلب جس کی قسمت میں ھدایت نہیں ہیں ان کو نہیں سننا سکتے ہو

*قرآن کی کچھ آیات میں محاورے کا استعمال ہوتا ہیں کافر نہ اندھے تھے نامردے نہ قبر میں تھے جو محاورے کی آیت کو نہیں سمجھتے ہے وہ قرآن کو سمجھنے سے اندھے اور مردے ہیں  نہ سنانے کی نصبت حضور ﷺ کی طرف ہیں مطلب جس کی قسمت میں ھدایت نہیں ہیں ان کو نہیں سننا سکتے  ہو :-
  ترجمۂ کنز العرفان         
اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ۔ اور نہ اندھیرے اور اجالا۔ اور نہ سایہ اور تیز دھوپ۔اور زندہ اور مردے برابر نہیں ۔ بیشک اللہ سنا تا ہے جسے چاہتا ہے اور تم انہیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں پڑے ہیں ۔ تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو۔ *(سورۃ الفاطر آیت نمبر 19/23)*
 تفسیر صراط الجنان           
{ وَ مَا یَسْتَوِی  : اور برابر نہیں ۔} اس آیت میں اللہ  تعالیٰ نے کافر اور مومن کی ذات میں  فرق بتایا کہ کافر ایسا ہے جیسے اندھا اور مومن ایسا ہے جیسے دیکھنے والا اوریہ دونوں برابر نہیں ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں  کہ جاہل اور عالم برابر نہیں ۔ *(جلالین مع صاوی، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۹ ، ۵ / ۱۶۹۴ ، مدارک، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۹ ، ص۹۷۶، ملتقطاً )*     
{ وَ لَا الظُّلُمٰتُ  : اور نہ اندھیرے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافر اور مومن کے اوصاف میں  فرق بیان فرمایا کہ کفر ایسے ہیں  جیسے اندھیرے اور ایمان ایسا ہے جیسے اجالا،اور یہ دونوں  برابر نہیں ۔ *( جلالین مع صاوی، فاطر، تحت الآیۃ:  ۲۰ ، ۵  /  ۱۶۹۴ ، ملخصاً )*   
 تفسیر صراط الجنان     
{  وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ  : اور زندہ اور مردے برابر نہیں ۔} اس آیت میں زندوں سے مراد مومنین یا علماء ہیں اور مُردوں سے کفار یا جاہل لوگ مراد ہیں ، ان کے بارے میں  فرمایا کہ یہ دونوں  برابر نہیں ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ’’ بیشک  اللہ  سنا تا ہے جسے چاہتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ جس کی ہدایت منظور ہو اسے   اللہ تعالیٰ ایمان کی توفیق عطا فرماتا ہے۔  *(خازن، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/ ۵۳۳  ، جلالین، فاطر، تحت الآیۃ:۱۹ ، ص۳۶۶، ملتقطاً)* 
{  وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ  : اور تم انہیں  سنانے والے نہیں  جو قبروں میں    پڑے ہیں ۔}   آیت کے اس حصے میں   کفارکو مُردوں  سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں  اُٹھا سکتے اور نصیحت قبول نہیں کر سکتے، بد انجام کفار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے فائدہ نہیں    اٹھاتے۔ 
یاد رہے کہ اس آیت سے مُردوں  کے نہ سننے پر اِستدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں  قبر والوں سے مراد کفار ہیں  نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سننا ہے جس پر ہدایت کا نفع مُرَتَّب ہو، اور جہاں  تک مُردوں  کے سننے کا تعلق ہے تو یہ کثیر اَحادیث سے ثابت ہے۔ 
 *نوٹ:*   اس مسئلے کی تفصیل سورۂ نمل کی آیت نمبر  80  میں گزر چکی ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے