بد مذہب والوں کا فضول اعتراض آعلیٰ حضرت پر سلام کیوں بھیجتے ہو سلام سلامتی کی دعا ہیں قبر والوں کو بھی تو سلام سے سلامتی کی دعا دی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ خود عالِم پر دورود بھیجتا ہیں علماء کے فضائل پر مشتمل 4 اَحادیث
بد مذہب والوں کا فضول اعتراض آعلیٰ حضرت پر سلام کیوں بھیجتے ہو سلام سلامتی کی دعا ہیں قبر والوں کو بھی تو سلام سے سلامتی کی دعا دی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ خود عالِم پر دورود بھیجتا ہیں علماء کے فضائل پر مشتمل 4 اَحادیث: -*
(1) حضرت حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ ہے اور تمہارے دین کی بھلائی تقویٰ و پرہیز گاری (میں ) ہے۔ *(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ: علی، ۳ / ۹۲ ، الحدیث: ۳۹۶۰)*
(2) حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی تمام ستاروں پر فضیلت ہے۔ *(ابو داؤد، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم،۳ / ۴۴۴، الحدیث: ۳۶۴۱)*
(3) حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا،ان میں سے ایک عالِم تھا اور دوسرا عبادت گزار،توحضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر ہے، پھر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتے،آسمانوں اور زمین کی مخلوق حتّٰی کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیاں لوگوں کو (دین کا) علم سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں۔ *(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴/ ۳۱۳، الحدیث: ۲۶۹۴)*
(4) حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’(قیامت کے دن) عالم اور عبادت گزار کو لایا جائے گا اور عبادت گزار سے کہا جائے گا’’تم جنت میں داخل ہو جاؤ جبکہ عالم سے کہا جائے گا کہ تم ٹھہرو اور لوگوں کی شفاعت کرو کیونکہ تم نے ان کے اَخلاق کو سنوارا ہے۔ *(شعب الایمان، السابع عشر من شعب الایمان۔ الخ، فصل فی فضل العلم وشرفہ، ۲/ ۲۶۸ ، الحدیث: ۱۷۱۷)*
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
Comments
Post a Comment