حضور ﷺ مدینہ منورہ کو سیکڑوں سال پہلے بسانے والے تُبَّع حمِیْری بادشاہ کے ایمان کو بھی جانتے ہیں کے وہ مسلمان تھا :- ترجمۂ کنز العرفان کیا وہ بہتر ہیں یا تبع (نامی بادشاہ)کی قوم اور ان سے پہلے والے لوگ؟ ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے۔ *(سورۃ الدخان آیت نمبر 37)* تفسیر صراط الجنان {اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ: کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم۔} اس آیت میں کفارِ قریش کا رد کیا گیا ہے کہ کیا طاقت و قوت اور شان و شوکت میں کفارِ مکہ بہتر ہیں یا تُبَّع نامی بادشاہ کی قوم اور ان سے پہلے والے لوگ جیسے عاد اور ثمود وغیرہ جو کہ کافر امتوں میں سے تھے؟ ان لوگوں کا انجام یہ ہوا کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کے باعث ہلاک کردیا، بیشک وہ کافر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر لوگ تھے جس کی وجہ سے عذاب کے حقدار ٹھہرے۔جب یہ کفارِ مکہ سے زیادہ طاقت و قوت رکھنے کے باوجود کفر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تو کفارِ مکہ جو کہ کفر میں ان کے شریک ہیں ، انہیں ہلاک کرنا کونسا دشوار کام ہے، حالانکہ یہ تو ان کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہیں ۔ یاد رہے کہ اس آیت میں جس تُبَّع کا ذکر ہے یہ تُبَّع حمِیْری تھے،یہ خود مومن اور یمن کے بادشاہ تھے لیکن ان کی قوم کافر تھی جو کہ انتہائی طاقت و قوت اور شان و شوکت کی مالک تھی اور ان کی تعداد بھی بہت کثیر تھی۔ *( روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۷، ۸ / ۴۱۸، خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۷، ۴ / ۱۱۵، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۱۱۱۳، ملتقطاً)* حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ تُبَّع کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے۔‘‘ *(معجم الکبیر،سہل بن سعد الساعدی، ابو زرعۃ عمرو بن جابر الحضرمی عن سہل بن سعد،۶ / ۲۰۳،الحدیث:۶۰۳۱)* اسی تُبَّع نے مدینہ منورہ بسایا، اس تُبَّع نے حضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو غائبانہ خط لکھ کر لوگوں کو سپرد کیا تھا، کہ جب حضورِاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جلوہ گر ہوں تو میرا یہ خط پیش کر دیا جائے، چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان میں جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہو ئے تو حضرت ابویعلیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ خط پیش کیا۔

 حضور ﷺ مدینہ منورہ کو سیکڑوں سال پہلے  بسانے والے تُبَّع حمِیْری بادشاہ کے ایمان کو بھی جانتے ہیں کے وہ مسلمان تھا  :- 

 ترجمۂ کنز العرفان 

کیا وہ بہتر ہیں یا تبع (نامی بادشاہ)کی قوم اور ان سے پہلے والے لوگ؟ ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے۔ *(سورۃ الدخان آیت نمبر 37)* 

 تفسیر صراط الجنان 

{اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ: کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم۔} اس آیت میں  کفارِ قریش کا رد کیا گیا ہے کہ کیا طاقت و قوت اور شان و شوکت میں  کفارِ مکہ بہتر ہیں یا تُبَّع نامی بادشاہ کی قوم اور ان سے پہلے والے لوگ جیسے عاد اور ثمود وغیرہ جو کہ کافر امتوں  میں  سے تھے؟ ان لوگوں  کا انجام یہ ہوا کہ ہم نے انہیں  ان کے کفر کے باعث ہلاک کردیا، بیشک وہ کافر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر لوگ تھے جس کی وجہ سے عذاب کے حقدار ٹھہرے۔جب یہ کفارِ مکہ سے زیادہ طاقت و قوت رکھنے کے باوجود کفر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تو کفارِ مکہ جو کہ کفر میں  ان کے شریک ہیں  ، انہیں  ہلاک کرنا کونسا دشوار کام ہے، حالانکہ یہ تو ان کے مقابلے میں  انتہائی کمزور ہیں ۔

یاد رہے کہ اس آیت میں  جس تُبَّع کا ذکر ہے یہ تُبَّع حمِیْری تھے،یہ خود مومن اور یمن کے بادشاہ تھے لیکن ان کی قوم کافر تھی جو کہ انتہائی طاقت و قوت اور شان و شوکت کی مالک تھی اور ان کی تعداد بھی بہت کثیر تھی۔ *( روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۷، ۸ / ۴۱۸، خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۷، ۴ / ۱۱۵، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۱۱۱۳، ملتقطاً)* 

 حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد  فرمایا’’ تُبَّع کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے۔‘‘ *(معجم الکبیر،سہل بن سعد الساعدی، ابو زرعۃ عمرو بن جابر الحضرمی عن سہل بن سعد،۶ / ۲۰۳،الحدیث:۶۰۳۱)* 

 اسی تُبَّع نے مدینہ منورہ بسایا، اس تُبَّع نے حضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو غائبانہ خط لکھ کر لوگوں  کو سپرد کیا تھا، کہ جب حضورِاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جلوہ گر ہوں  تو میرا یہ خط پیش کر دیا جائے، چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان میں  جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہو ئے تو حضرت ابویعلیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ خط پیش کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے