حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم غیب ان کی قوم کیسے مریگئی

حضرت ہود  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم غیب ان کی قوم کیسے مریگئی :-*
   ترجمۂ کنز العرفان   
عرض کی: اے میرے رب !میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایاہے۔ اللہ نے فرمایا: تھوڑی دیر میں یہ پچھتانے والے ہوجائیں گے۔ تو سچی چنگھاڑ نے انہیں پکڑ لیا تو ہم نے انہیں سوکھی گھاس کوڑا بنادیا تو ظالم لوگوں کیلئے دوری ہو۔ *(سورۃ المومنون آیت نمبر 39/41)*
 تفسیر صراط الجنان     
{  قَالَ  : عرض کی۔}   جب حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کو اُن کے ایمان لانے کی امید نہ رہی اور انہوں  نے دیکھا کہ قوم انتہائی سرکشی پر ہے تو اُن کے خلاف دعا کی اور بارگاہِ الٰہی میں  عرض کی: اے میرے رب!   عَزَّوَجَلَّ  ، میری مدد فرما اور انہیں  ہلاک کر دے کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایاہے اور وہ اسی پر قائم ہیں ۔  *(ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ  : ۳۹، ۴ / ۴۸)* 
{ قَالَ  : اللہ نے فرمایا۔} اللہ تعالیٰ نےحضرت ہود  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول فرمائی اور ان سے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ تھوڑی دیر میں جب  اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھیں گے تو یہ اپنے کفر اور تکذیب پر پچھتانے والے ہوجائیں گے۔  *(مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۴۰  ، ص  ۷۵۷)* 
{  فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ  : تو سچی چیخ نے انہیں پکڑ لیا۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام  کی قوم کے لوگ عذاب اور ہلاکت میں  گرفتار کئے گئے اور وہ ہلاک ہو کر گھاس کوڑے کی طرح ہوگئے تو انبیاء کرام     عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی تکذیب کرنے والے ظالم لوگوں  کے لئے خدا کی رحمت سے دوری ہے۔  *(خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ  : ۴۱  ، ۳ / ۳۲۵  ، روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ  : ۴۱  ، ۶ / ۸۳  ،   ملتقطاً)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-