حضور ﷺ نے علم غیب سے بنی اسرائیل کی پہلی خرابی بیان کی بد عقیدہ اور بد کردار لوگوں کا ساتھی بننے اور بنانے سے بچیں :-
*حضور ﷺ نے علم غیب سے بنی اسرائیل کی پہلی خرابی بیان کی بد عقیدہ اور بد کردار لوگوں کا ساتھی بننے اور بنانے سے بچیں :-
ترجمۂ کنز العرفان
*زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے گا اور یہ ایمان والوں پر حرام ہے۔*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بد عقیدہ اور بری عادات و کردار والے لوگوں کا ساتھی بننے اورانہیں اپنا ساتھی بنانے سے بچنا چاہئے اور درست عقائد رکھنے والے نیک و پارسا لوگوں کا ساتھی بننا اور انہیں اپنا ساتھی بنانا چاہئے کیونکہ ایک طبیعت دوسری طبیعت سے اثر لیتی ہے اور ایک دوسرے سے تعلقات اپنا اثر دکھاتے ہیں اور بری عادات بہت جلد بندے میں سَرایَت کر جاتی ہیں ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بنی اسرائیل میں پہلی خرابی جو آئی وہ یہ تھی کہ ان میں سے ایک آدمی جب دوسرے آدمی سے ملتا تو اس سے کہتا: اے شخص! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو برا کام تم کرتے ہو اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ تیرے لئے جائز نہیں ہے۔ پھر جب دوسرے دن اس سے ملتا تو اسے منع نہ کرتا کیونکہ وہ کھانے پینے اور بیٹھنے میں اس کاشریک ہو جاتاتھا۔جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے دلوں کو برے دلوں سے ملا دیا (اور نیک لوگ بروں کی صحبت میں بیٹھنے کی نحوست سے انہی جیسے ہوگئے۔) *( ابو داؤد، اوّل کتاب الملاحم، باب الامر والنہی ، ۴ / ۱۶۲ ، الحدیث: ۴۳۳۶ )*
اورجتنے قریبی ساتھی شوہر اور بیوی ہوتے ہیں اتنے کوئی اور نہیں ہوتے اور ان میں سے کوئی ایک بد عقیدہ یا بد کردار ہو تو اس کے اثرات اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ بندہ اپنے دین و ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے،جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ غیرمذہب والیوں کی صحبت آگ ہے، ذی علم، عاقل، بالغ مَردوں کے مذہب اس میں بگڑگئے ہیں ، عمران بن حطان رقاشی کاقصہ مشہورہے، یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑا محدث تھا، خارجی مذہب کی عورت کی صحبت میں مَعَاذَ اللہ خود خارجی ہوگیا اور یہ دعویٰ کیاتھا کہ اسے سنی کرنا چاہتا ہے۔ *( فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۶۹۲ )*
لہٰذا جسے اپنے دین و ایمان کی ذرا سی بھی فکر ہے اسے چاہئے کہ وہ بد مذہب مرد یا عورت سے ہر گز ہر گز شادی نہ کرے، یونہی برے کردار والے مرد یا عورت سے شادی کرنے سے بھی بچے بلکہ درست عقائد،اچھے کردار اور نیک و پارسا مرد یا عورت سے شادی کی جائے تاکہ دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی برباد نہ ہو
ترجمۂ کنز العرفان
*زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے گا اور یہ ایمان والوں پر حرام ہے۔*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بد عقیدہ اور بری عادات و کردار والے لوگوں کا ساتھی بننے اورانہیں اپنا ساتھی بنانے سے بچنا چاہئے اور درست عقائد رکھنے والے نیک و پارسا لوگوں کا ساتھی بننا اور انہیں اپنا ساتھی بنانا چاہئے کیونکہ ایک طبیعت دوسری طبیعت سے اثر لیتی ہے اور ایک دوسرے سے تعلقات اپنا اثر دکھاتے ہیں اور بری عادات بہت جلد بندے میں سَرایَت کر جاتی ہیں ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بنی اسرائیل میں پہلی خرابی جو آئی وہ یہ تھی کہ ان میں سے ایک آدمی جب دوسرے آدمی سے ملتا تو اس سے کہتا: اے شخص! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو برا کام تم کرتے ہو اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ تیرے لئے جائز نہیں ہے۔ پھر جب دوسرے دن اس سے ملتا تو اسے منع نہ کرتا کیونکہ وہ کھانے پینے اور بیٹھنے میں اس کاشریک ہو جاتاتھا۔جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے دلوں کو برے دلوں سے ملا دیا (اور نیک لوگ بروں کی صحبت میں بیٹھنے کی نحوست سے انہی جیسے ہوگئے۔) *( ابو داؤد، اوّل کتاب الملاحم، باب الامر والنہی ، ۴ / ۱۶۲ ، الحدیث: ۴۳۳۶ )*
اورجتنے قریبی ساتھی شوہر اور بیوی ہوتے ہیں اتنے کوئی اور نہیں ہوتے اور ان میں سے کوئی ایک بد عقیدہ یا بد کردار ہو تو اس کے اثرات اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ بندہ اپنے دین و ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے،جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ غیرمذہب والیوں کی صحبت آگ ہے، ذی علم، عاقل، بالغ مَردوں کے مذہب اس میں بگڑگئے ہیں ، عمران بن حطان رقاشی کاقصہ مشہورہے، یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑا محدث تھا، خارجی مذہب کی عورت کی صحبت میں مَعَاذَ اللہ خود خارجی ہوگیا اور یہ دعویٰ کیاتھا کہ اسے سنی کرنا چاہتا ہے۔ *( فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۶۹۲ )*
لہٰذا جسے اپنے دین و ایمان کی ذرا سی بھی فکر ہے اسے چاہئے کہ وہ بد مذہب مرد یا عورت سے ہر گز ہر گز شادی نہ کرے، یونہی برے کردار والے مرد یا عورت سے شادی کرنے سے بھی بچے بلکہ درست عقائد،اچھے کردار اور نیک و پارسا مرد یا عورت سے شادی کی جائے تاکہ دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی برباد نہ ہو
Comments
Post a Comment