اللہ تعالٰی کی نعمت اور مدد کو صرف مادی اسباب کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے مُؤثِّرِ حقیقی اعتقاد رکھا تو شرک ہوگا یہی حال اولیا اللہ اور انبیاء کرام کی مدد کا ہیں اگر اس فرق کو نہیں مانتے ہو تو سورج کا روشنی دینا بادل کا بارش برسانا یہ کہنا بھی شرک ہوگا
اللہ تعالٰی کی نعمت اور مدد کو صرف مادی اسباب کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے مُؤثِّرِ حقیقی اعتقاد رکھا تو شرک ہوگا یہی حال اولیا اللہ اور انبیاء کرام کی مدد کا ہیں اگر اس فرق کو نہیں مانتے ہو تو سورج کا روشنی دینا بادل کا بارش برسانا یہ کہنا بھی شرک ہوگا :-*
ترجمۂ کنز العرفان
اور بیشک ہم نے لوگوں میں بارش کے پھیرے رکھے تاکہ وہ یاد رکھیں تو بہت سے لوگوں نے ناشکری کے سوا کچھ اور ماننے سے انکار کردیا۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کی نعمت ملنے کو صرف مادی اسباب کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے یوں کہ اللہ تعالٰی کی طرف اصلاً اس کی نسبت نہ ہو کہ یہ بھی بعض اوقات ایک قسم کی ناشکری ہے اور بطورِ خاص کفار جن چیزوں کو حقیقی مُؤثِّر مان کر نسبت کرتے ہیں ان کی طرف تو تنہا نسبت ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ حضرت زیدبن خالد جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُدَیْبیہ کے مقام پر صبح کی نماز فجر پڑھائی جس کی رات کو بارش ہوئی تھی۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا؟ صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: ’’ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہتر جانتے ہیں ۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ’’میرے بندوں نے صبح کی تو کچھ مومن رہے اور کچھ کافر ہو گئے، جس نے کہا ہم پر اللہ تعالٰی کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا ہے اور جس نے کہا ہم پر فلاں ستارے نے بارش برسائی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر یقین رکھا۔ *(بخاری، کتاب الاذان، باب یستقبل الامام الناس اذا سلّم ، ۱ / ۲۹۵ ، الحدیث: ۸۴۶ )* حدیث پاک میں کفر سے مراد حقیقی کفر اس صورت میں ہے جب ستاروں کو مُؤثِّرِ حقیقی اعتقاد کرکے یہ بات کہی گئی ہو۔
ترجمۂ کنز العرفان
اور بیشک ہم نے لوگوں میں بارش کے پھیرے رکھے تاکہ وہ یاد رکھیں تو بہت سے لوگوں نے ناشکری کے سوا کچھ اور ماننے سے انکار کردیا۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کی نعمت ملنے کو صرف مادی اسباب کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے یوں کہ اللہ تعالٰی کی طرف اصلاً اس کی نسبت نہ ہو کہ یہ بھی بعض اوقات ایک قسم کی ناشکری ہے اور بطورِ خاص کفار جن چیزوں کو حقیقی مُؤثِّر مان کر نسبت کرتے ہیں ان کی طرف تو تنہا نسبت ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ حضرت زیدبن خالد جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُدَیْبیہ کے مقام پر صبح کی نماز فجر پڑھائی جس کی رات کو بارش ہوئی تھی۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا؟ صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: ’’ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہتر جانتے ہیں ۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ’’میرے بندوں نے صبح کی تو کچھ مومن رہے اور کچھ کافر ہو گئے، جس نے کہا ہم پر اللہ تعالٰی کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا ہے اور جس نے کہا ہم پر فلاں ستارے نے بارش برسائی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر یقین رکھا۔ *(بخاری، کتاب الاذان، باب یستقبل الامام الناس اذا سلّم ، ۱ / ۲۹۵ ، الحدیث: ۸۴۶ )* حدیث پاک میں کفر سے مراد حقیقی کفر اس صورت میں ہے جب ستاروں کو مُؤثِّرِ حقیقی اعتقاد کرکے یہ بات کہی گئی ہو۔
Comments
Post a Comment