اَنبیاء، صحابہ اور اولیاء کا حشر لباس میں ہو گا

اَنبیاء، صحابہ اور اولیاء کا حشر لباس میں   ہو گا:*
ترجمۂ کنز العرفان 
یاد کروجس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ نامۂ اعمال کو لپیٹتا ہے۔ہم اسے دوبارہ اسی طرح لوٹا دیں گے جس طرح ہم نے پہلے بنایا تھا۔ یہ ہمارے اوپر ایک وعدہ ہے، بیشک ہم ضرور یہ کرنے والے ہیں ۔
 اس آیت کی دوسری تفسیر سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں  کا حشر ایسے ہو گا کہ ان کے بدن ننگے ہوں  گے اور ان کا ختنہ بھی نہیں   ہوا ہو گا۔ صحیح مسلم میں   حضرت  عبد اللہ  بن عباس  رَضِیَ   اللہ   تَعَالٰی   عَنْہُمَا  سے روایت ہے ،حضور اقدس  صَلَّی   اللہ   تَعَالٰی   عَلَیْہِ   وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اے لوگو! تم  اللہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں   ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بے ختنہ کئے جمع کئے جاؤ گے۔ *(  مسلم،کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا،باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیامۃ ، ص۱۵۳۰، الحدیث:۵۸(۲۸۶۰) )*
البتہ یہاں   یہ یاد رہے کہ انبیاءِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ، صحابۂ کرام   رَضِیَ   اللہ   تَعَالٰی   عَنْہُمْ  اور اولیاءِ کرام   رَحْمَۃُ   اللہ   تَعَالٰی   عَلَیْہِ مْ قیامت کے دن اس حال سے محفوظ ہوں   گے اور ان کا حشر لباس میں   کیا جائے گا۔ جیسا کہ مفتی احمد یار خاں نعیمی  رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اس حدیث کے تحت ارشاد فرماتے ہیں   :اس فرمانِ عالی میں  اِنَّکُمْ  فرما کر بتایا گیا کہ تم عوام لوگ اس حالت میں  اُٹھو گے : ننگے بدن، ننگے پاؤں ، بے ختنہ، مگر تمام انبیاءِ کرام اپنے کفنوں   میں اٹھیں  گے حتّٰی کہ بعض   اولیاء   اللہ  بھی کفن پہنے اٹھیں  گے تاکہ ان کا ستر کسی اور پر ظاہر نہ ہو۔ جامع صغیر کی روایت میں   ہے کہ حضور  نے فرمایا کہ میں   قبر انور سے اُٹھوں   گا اور فوراً مجھے جنتی جوڑا پہنا دیا جاوے گا ۔ لہٰذا یہاں اس فرمان عالی سے حضور انور  صَلَّی   اللہ عَلَیْہ وَ سَلَّمَ  بلکہ تمام انبیاء ،بعض اولیاء مُستَثنیٰ ہیں ۔ *(  مراٰۃ المناجیح ، حشر کابیان، پہلی فصل،  ۷  /   ۲۹۰، تحت الحدیث: ۵۲۹۳ )*
 اور فقیہ اعظم مفتی ابو الخیر  نورُ اللہ  نعیمی  رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی   عَلَیْہِ  یہ حدیث پاک ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : یہ خطاب  امت کو ہے جس کاظاہر یہ ہے کہ حضرات انبیاءِکرام سب مُستَثنیٰ ہیں ، اور وہ سب بِفَضْلِہ تعالیٰ لباس میں  ہونگے، ہاں   تشریفی خِلعتیں   بھی علیٰ حسب ِالمدارج ان حضرات کیلئے وارد ہیں  ( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  )  بہرحال اس حدیث سے ثابت ہورہا ہے کہ امتی ننگے ہوں   گے۔ *( فتاوی نوریہ، کتاب العقائد،  ۵  /  ۱۲۵ )*
دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں  :آیاتِ مُتَکاثِرہ اور اَحادیثِ مُتَواترہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرات صحابۂ کرام  اور اولیاءِ عظام  رَضِیَ  اللہ عَنْہُمْ کا حشر بھی لباس میں   ہوگا کہ یہ سب حضرات  مُنْعَم عَلَیہم  ہیں   اور ان کے لئے حضرات ِانبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی مَعِیَّت ورفاقتِ خاصہ بَحکمِ قرآن کریم صراحۃً ثابت ہے۔ پ  5  ع 6  میں   ہے ’’ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًا ‘‘اس انعام ومعیت ورفاقت سے ہی واضح ہورہا ہے کہ وہ بھی انبیاءِکرام   کی معیت میں لباس میں   ہوں گے بالخصوص جبکہ یہ حضرات ہیں  ہی صدیقین یاشہدا سے یا صالحین۔ *( فتاوی نوریہ، کتاب العقائد،  ۵  /  ۱۲۹ )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے