اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات ظاہر ہونے کا ثبوت:
*اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات ظاہر ہونے کا ثبوت: -*
ترجمۂ کنز العرفان
اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھرجب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟اور جو شکر کرے تووہ اپنی ذات کیلئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔ *(سورۃ النمل آیت نمبر 40)*
تفسیر صراط الجنان
{قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ : اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔} کتاب کا علم رکھنے والے سے مراد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، یہ اللہ تعالٰی کا اسمِ اعظم جانتے تھے۔ چنانچہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یہی قول زیادہ صحیح ہے اور جمہور مفسرین کا اسی پر اتفاق ہے۔ *(مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ص ۸۴۷)*
ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ انسانوں میں سے ایک شخص تھے اور ان کا نام حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھا۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ *( البحر المحیط، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ۷ / ۷۲ - ۷۳)*
ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس سے مراد حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔ *(تفسیر قرطبی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۷ / ۱۵۶ ، الجزء الثالث عشر )*
اور ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اکثر مفسرین نے فرمایا کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ *( تفسیر بغوی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ،۳/ ۳۵۹ )*
ان تفاسیر کے علاوہ دیگر معتبر تفاسیر جیسے تفسیر سمرقندی جلد 2 صفحہ 497،تفسیر جلالین صفحہ 320، تفسیر صاوی جلد4 صفحہ1498، تفسیرروح البیان جلد 6 صفحہ 349 میں راجح اور جمہور مفسرین کا یہی قول لکھا ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا اُس سے مراد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔
{ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ : میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔} جب حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں اس تخت کو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا تو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: ’’اگر تم نے ایسا کر لیا تو تم سب سے زیادہ جلدی اس تخت کو لانے والے ہو گے۔حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب اسمِ اعظم کے ذریعے دعا مانگی تو اسی وقت تخت حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے نمودارہو گیا۔ *(تفسیر سمرقندی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۲ / ۴۹۷ )*
اس آیت سے اولیاءِکرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات کا ظاہر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ حضرت علامہ یافعی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اولیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات کا ظاہر ہونا عقلی طورپر ممکن اور نقلی دلائل سے ثابت ہے۔عقلی طور پر ممکن اس لئے ہے کہ ولی سے کرامت ظاہر کردینا اللہ تعالٰی کی قدرت سے محال نہیں بلکہ یہ چیز ممکنات میں سے ہے، جیسے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے معجزات ظاہر کر دینا۔یہ اہلسنّت کے کامل اولیاءِکرام، اصولِ فقہ کے بڑے بڑے علماءِ، فقہاء اور محدثین کا مذہب ہے۔مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں ان کی کتابوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے۔ پھر اہلسنّت کے جمہور محقق آئمہ کے نزدیک صحیح،ثابت اور مختار قول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے معجزے کے طور پر جائز ہے وہ اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامت کے طور پر جائز ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے نبوت والا چیلنج کرنا مقصود نہ ہو۔ معجزہ اور کرامت میں فرق یہ ہے کہ معجزہ نبی سے صادر ہوتا ہے اور کرامت ولی سے۔معجزے کے ذریعے کفار کو چیلنج کیا جا تا ہے جبکہ ولی کو بغیر ضرورت کرامت ظاہر کرنا منع ہے۔ اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات ثابت ہونے پرقرآنِ پاک اور بکثرت اَحادیث ِمبارکہ میں دلائل موجود ہیں ۔ قرآن پاک میں موجود حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے پاس بے موسم کے پھل آنے والا واقعہ۔حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے کھجور کے سوکھے ہوئے تنے کو ہلانے پر پکی ہوئی عمدہ اور تازہ کھجوریں گرنے والا واقعہ۔اصحابِ کہف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا غار میں سینکڑوں سال تک سوئے رہنے والا واقعہ اورحضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا واقعہ ولی سے کرامات ظاہر ہونے کی دلیل ہے۔اسی طرح صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بے شمار کرامتوں کا ظہور بھی ولی سے کرامت ظاہر ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ *(روض الریاحین، الفصل الثانی فی اثبات کرامات الاولیاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم، ص ۳۷ - ۳۸ ، ملخصاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھرجب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟اور جو شکر کرے تووہ اپنی ذات کیلئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔ *(سورۃ النمل آیت نمبر 40)*
تفسیر صراط الجنان
{قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ : اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔} کتاب کا علم رکھنے والے سے مراد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، یہ اللہ تعالٰی کا اسمِ اعظم جانتے تھے۔ چنانچہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یہی قول زیادہ صحیح ہے اور جمہور مفسرین کا اسی پر اتفاق ہے۔ *(مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ص ۸۴۷)*
ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ انسانوں میں سے ایک شخص تھے اور ان کا نام حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھا۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ *( البحر المحیط، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ۷ / ۷۲ - ۷۳)*
ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس سے مراد حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔ *(تفسیر قرطبی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۷ / ۱۵۶ ، الجزء الثالث عشر )*
اور ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اکثر مفسرین نے فرمایا کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ *( تفسیر بغوی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ،۳/ ۳۵۹ )*
ان تفاسیر کے علاوہ دیگر معتبر تفاسیر جیسے تفسیر سمرقندی جلد 2 صفحہ 497،تفسیر جلالین صفحہ 320، تفسیر صاوی جلد4 صفحہ1498، تفسیرروح البیان جلد 6 صفحہ 349 میں راجح اور جمہور مفسرین کا یہی قول لکھا ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا اُس سے مراد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔
{ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ : میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔} جب حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں اس تخت کو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا تو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: ’’اگر تم نے ایسا کر لیا تو تم سب سے زیادہ جلدی اس تخت کو لانے والے ہو گے۔حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب اسمِ اعظم کے ذریعے دعا مانگی تو اسی وقت تخت حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے نمودارہو گیا۔ *(تفسیر سمرقندی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۲ / ۴۹۷ )*
اس آیت سے اولیاءِکرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات کا ظاہر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ حضرت علامہ یافعی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اولیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات کا ظاہر ہونا عقلی طورپر ممکن اور نقلی دلائل سے ثابت ہے۔عقلی طور پر ممکن اس لئے ہے کہ ولی سے کرامت ظاہر کردینا اللہ تعالٰی کی قدرت سے محال نہیں بلکہ یہ چیز ممکنات میں سے ہے، جیسے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے معجزات ظاہر کر دینا۔یہ اہلسنّت کے کامل اولیاءِکرام، اصولِ فقہ کے بڑے بڑے علماءِ، فقہاء اور محدثین کا مذہب ہے۔مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں ان کی کتابوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے۔ پھر اہلسنّت کے جمہور محقق آئمہ کے نزدیک صحیح،ثابت اور مختار قول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے معجزے کے طور پر جائز ہے وہ اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامت کے طور پر جائز ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے نبوت والا چیلنج کرنا مقصود نہ ہو۔ معجزہ اور کرامت میں فرق یہ ہے کہ معجزہ نبی سے صادر ہوتا ہے اور کرامت ولی سے۔معجزے کے ذریعے کفار کو چیلنج کیا جا تا ہے جبکہ ولی کو بغیر ضرورت کرامت ظاہر کرنا منع ہے۔ اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات ثابت ہونے پرقرآنِ پاک اور بکثرت اَحادیث ِمبارکہ میں دلائل موجود ہیں ۔ قرآن پاک میں موجود حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے پاس بے موسم کے پھل آنے والا واقعہ۔حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے کھجور کے سوکھے ہوئے تنے کو ہلانے پر پکی ہوئی عمدہ اور تازہ کھجوریں گرنے والا واقعہ۔اصحابِ کہف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا غار میں سینکڑوں سال تک سوئے رہنے والا واقعہ اورحضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا واقعہ ولی سے کرامات ظاہر ہونے کی دلیل ہے۔اسی طرح صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بے شمار کرامتوں کا ظہور بھی ولی سے کرامت ظاہر ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ *(روض الریاحین، الفصل الثانی فی اثبات کرامات الاولیاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم، ص ۳۷ - ۳۸ ، ملخصاً )*
Comments
Post a Comment