اللہ تعالیٰ کے محبوب اولیاء اللہ اور انبیاء کرام کی عظمت کو کم کرنے والے اس آیت میں شمار ہونگے قرآن محبوب بندوں کی عظمت کے لئے ہیں ان کے ردد کے لئے نہیں
اللہ تعالیٰ کے محبوب اولیاء اللہ اور انبیاء کرام کی عظمت کو کم کرنے والے اس آیت میں شمار ہونگے قرآن محبوب بندوں کی عظمت کے لئے ہیں ان کے ردد کے لئے نہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
تو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں ہارجیت کے ارادے سے کوشش کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں ۔ *(سورۃ الحج آیت نمبر 50/51)*
تفسیر صراط الجنان
{ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : تو جو لوگ ایمان لائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے گناہوں سے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا رد کرنے اور انہیں جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کبھی ان آیات کو جادو کہتے ہیں ، کبھی شعر اور کبھی پچھلوں کے قصے ،اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کے ساتھ ان کا یہ مکر چل جائے گا ، وہ جہنمی ہیں ۔ *( تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ : ۵۰-۵۱، ۸ / ۲۳۵، مدارک، الحج، تحت الآیۃ : ۵۰-۵۱، ص۷۴۳، ملتقطاً )*
اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ جو ضدی عالم جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے اور سند کے طور پر قرآن مجید کی آیات پیش کرے ، وہ جہنمی ہے۔ اسی طرح مناظرہ محض اپنی جیت کے لئے کرنا جس میں حق کو ثابت کرنا اور دین کی خدمت مقصود نہ ہو، کافروں کا کام ہے جبکہ اظہار ِحق کے لئے مناظرہ کرنا انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔
ترجمۂ کنز العرفان
تو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں ہارجیت کے ارادے سے کوشش کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں ۔ *(سورۃ الحج آیت نمبر 50/51)*
تفسیر صراط الجنان
{ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : تو جو لوگ ایمان لائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے گناہوں سے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا رد کرنے اور انہیں جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کبھی ان آیات کو جادو کہتے ہیں ، کبھی شعر اور کبھی پچھلوں کے قصے ،اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کے ساتھ ان کا یہ مکر چل جائے گا ، وہ جہنمی ہیں ۔ *( تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ : ۵۰-۵۱، ۸ / ۲۳۵، مدارک، الحج، تحت الآیۃ : ۵۰-۵۱، ص۷۴۳، ملتقطاً )*
اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ جو ضدی عالم جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے اور سند کے طور پر قرآن مجید کی آیات پیش کرے ، وہ جہنمی ہے۔ اسی طرح مناظرہ محض اپنی جیت کے لئے کرنا جس میں حق کو ثابت کرنا اور دین کی خدمت مقصود نہ ہو، کافروں کا کام ہے جبکہ اظہار ِحق کے لئے مناظرہ کرنا انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔
Comments
Post a Comment