زمانۂ فِتْرَت کے لوگ پر توحید کا عقیدہ کافی ہوتا ہیں اگر وہ شرک اور کفر سے محفوظ ہیں تو مسلمان ہوتے ہیں جیسے حضور ﷺ کے والدین
*زمانۂ فِتْرَت کے لوگ پر توحید کا عقیدہ کافی ہوتا ہیں اگر وہ شرک اور کفر سے محفوظ ہیں تو مسلمان ہوتے ہیں جیسے حضور ﷺ کے والدین :-
ترجمۂ کنز العرفان
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اِس نبی نے یہ قرآن خود بنالیا ہے؟ بلکہ یہی تمہارے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ڈرسناؤ جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا اس امید پر (ڈراؤ) کہ وہ ہدایت پائیں ۔ *(سورۃ السجدہ آیت نمبر 3)*
اس آیت میں جو بیان ہوا کہ ’’جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا‘‘ان لوگوں سے مراد زمانۂ فِتْرَت کے لوگ ہیں ۔اہل ِعرب کے لئے اس زمانے کی مدت حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک تھی اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے وہ زمانہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سے حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعثَت تک تھا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد دنیا میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علاوہ کسی نبی کے تشریف نہ لانے کی صراحت اس حدیث پاک میں بھی موجود ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’میں دنیا اور آخرت میں حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں ۔صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، کس طرح؟ ارشاد فرمایا :سارے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عَلّاتی بھائی ہیں جن کی مائیں (یعنی فروعی احکام) الگ الگ ہیں اور ان کا دین (یعنی اصولی عقائد ) ایک ہے اور میرے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ *(مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل عیسی علیہ السلام ، ص ۱۲۸۷، الحدیث:۱۴۵(۲۳۶۵))*
ترجمۂ کنز العرفان
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اِس نبی نے یہ قرآن خود بنالیا ہے؟ بلکہ یہی تمہارے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ڈرسناؤ جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا اس امید پر (ڈراؤ) کہ وہ ہدایت پائیں ۔ *(سورۃ السجدہ آیت نمبر 3)*
اس آیت میں جو بیان ہوا کہ ’’جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا‘‘ان لوگوں سے مراد زمانۂ فِتْرَت کے لوگ ہیں ۔اہل ِعرب کے لئے اس زمانے کی مدت حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک تھی اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے وہ زمانہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سے حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعثَت تک تھا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد دنیا میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علاوہ کسی نبی کے تشریف نہ لانے کی صراحت اس حدیث پاک میں بھی موجود ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’میں دنیا اور آخرت میں حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں ۔صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، کس طرح؟ ارشاد فرمایا :سارے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عَلّاتی بھائی ہیں جن کی مائیں (یعنی فروعی احکام) الگ الگ ہیں اور ان کا دین (یعنی اصولی عقائد ) ایک ہے اور میرے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ *(مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل عیسی علیہ السلام ، ص ۱۲۸۷، الحدیث:۱۴۵(۲۳۶۵))*
Comments
Post a Comment