کسی کو یہ حق نہیں کے وہ اللہ‎ تعالیٰ اور رسول اللہ‎ کی ذات شفات ان کے علم پر اعتراض کرے اعتراض وہی کریگا جس کو اپنے علم پر غرور ہوگا وہ شیطان کے راستے پر ہے جس کو علم سیکھنا ہوتا ہے وہ وہ اعتراض نہیں سوال کرتا ہے

کسی کو یہ حق نہیں کے وہ اللہ‎ تعالیٰ اور رسول اللہ‎ کی ذات شفات ان کے علم پر اعتراض کرے اعتراض وہی کریگا جس کو اپنے علم پر غرور ہوگا وہ شیطان کے راستے پر ہے جس کو علم سیکھنا ہوتا ہے وہ وہ اعتراض نہیں سوال کرتا ہے :-*
ترجمۂ کنز العرفان     
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم کے جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ *(سورۃ الحج آیت نمبر 3)*
 اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں علم کے بغیر بحث کرنا حرام ہے ۔ صرف علماءِ دین تحقیق کے  لئے اس کی ذات و صفات میں  بحث کر سکتے ہیں بشرطیکہ جھگڑا مقصود نہ ہو بلکہ صرف اعتراضات کا اٹھانا اور حق کی تحقیق کا قصد ہو، لہٰذا علمِ کلام برا نہیں ، اچھا علم ہے۔ 
{ وَ یَتَّبِـعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ : اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔} اس آیت میں سر کش شیطان کے بارے  میں دو قول ہیں (1) اس سے انسانی شَیاطین مراد ہیں  اور یہ کافروں  کے وہ سردار ہیں     جو دوسروں کو کفر کی طرف بلاتے ہیں ۔ (2 )  اس سے ابلیس اور اس کے لشکر مراد ہیں ۔ *( خازن، الحج، تحت الآیۃ  : ۳، ۳ / ۲۹۹)* 
 *شیطان انسانوں اور جنوں  سے نجات کی صورت   شیطان اگر کوئی گنہہ کرا دے تو اپنے آپ کو ہزار دو ہزار تسبی دورود پڑھنے کی سزا دو اس طرح شیطان اپنی شرارت سے باز آ جائے گا انسانی شیطان کی کوئی بات نہ سنی جائے :-*
یاد رہے کہ شیطان خواہ انسانوں میں سے ہوں  یاجنوں  میں سے ان کی کوئی بھی بات نہ مانی جائے کیونکہ اگر ان کی ایک بات مان لی تو یہ ملعون اسی پر اِکتفا نہ کریں  گے بلکہ اور باتیں  منوانے کی تاک میں  بھی رہیں  گے اور جتنا ان کی بات مانتے چلے جائیں  گے اس کاسلسلہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ اسی طرح ان کے ساتھ جھگڑے اور بحث میں  مصروف نہ ہوا جائے کیونکہ اس کے ذریعے بھی وہ اپنے ناپاک عَزائم میں کامیاب ہو جاتے ہیں     لہٰذاان سے نجات کی صورت یہ ہے کہ ان کی کوئی بات سنی ہی نہ جائے کیونکہ اگر ان کی بات سنیں  گے تو ممکن ہے کہ کوئی بات دل پر اثر کر جائے اور سننے والا کفر و گمراہی کی دلدل میں پھنس کر رہ جائے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے کلام کا خلاصہ ہے کہ شیطان دو قسم کے ہیں  (1)  شَیَاطِیْنُ الْجِنْ  ان سے ابلیس لعین اور اس کی ملعون اولاد مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور  تمام مسلمانوں کو ان کے شر اور تمام شیاطین کے شر سے پناہ دے۔ ( 2) شَیَاطِیْنُ الْاِنْس ۔ اس سے کفار اور بدعتی لوگوں کے داعی اور مُنادی مراد ہیں ۔  اللہ تعالیٰ ان پر لعنت فرمائے اور ان کوہمیشہ بے سہارا رکھے اوران پر ہمیں دائمی نصرت عطا فرمائے ۔ اے اللہ !سیّد المرسَلین  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے طفیل ہماری یہ دعا قبول فرما۔ 
 ہمارا رب  عَزَّوَجَلَّ  فرماتا ہے 
’’وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا *(انعام :۱۱۲)* 
یوں  ہی ہم نے ہر نبی کا دشمن کیا شیطان آدمیوں  اور شیطان جنوں  کو کہ آپس میں ایک دوسرے کے دل میں بناوٹ کی بات ڈالتے ہیں دھوکا دینے کیلئے۔ 
حدیث میں ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے حضرت ابو ذر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا’’ شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کے شر سے  اللہ کی پناہ مانگ۔ حضرت ابو ذررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  نے عرض کی: کیا آدمیوں  میں بھی شیطان ہیں ؟ ارشاد فرمایا: ہاں ۔ *(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی ذر الغفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ۸ / ۱۳۲، الحدیث: ۲۱۶۰۸)* 
 ائمۂ دین فرمایا کرتے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔   *(تفسیر طبری، الناس، تحت الآیۃ   : ۴، ۱۲ / ۷۵۳ )* 
 میں کہتا ہوں :اس آیت کریمہ میں   شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ‘‘ کومقدم کرنا بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔اس حدیث کریم نے کہ’’جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجاؤ کہ تو جھوٹا  ہے‘‘ دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرما د یا، شیطان آدمی ہو خواہ جن اُس کا قابو اسی وقت چلتا ہے جب اس کی سنیں  گے اور جب تنکا توڑ کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیں  گے کہ’’ تو جھوٹا ہے‘‘ تو وہ خبیث اپنا سامنہ لے کر رہ جاتا ہے۔   *( فتاوی رضویہ،    ۱ / ۷۸۰  - ۷۸۱ )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے