حضور ﷺ جنّتی اور جہنمی کے نام کے ساتھ ان کی لسٹ بھی جانتے ہیں


حضور ﷺ جنّتی اور جہنمی کے نام کے ساتھ ان کی لسٹ بھی جانتے ہیں
📗  حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رضی اللہ تعالٰی عنہ) بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں ‘
آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ دونوں کیسی کتابیں ہیں ؟
ہم نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! البتہ اگر آپ ﷺ ہمیں بتادیں !
آپ ﷺ کے دائیں ہاتھ میں جو کتاب تھی آپ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا :
یہ رب العالمین کے طرف سے کتاب ہے ‘ اس میں اہل جنت کے اسماء ہیں اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں ‘ پھر آخر میں (جمع کرکے) سب کا میزان (ٹوٹل) کردیا گیا ہے۔ اس میں اب کبھی اضافہ ہوگ اور نہ کبھی کمی ہوگی ‘
پھر آپ ﷺ کے بائیں ہاتھ میں جو کتاب تھی آپ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا :
یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے اس میں دوزخ والوں کے اسماء ہیں اور ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں ‘ پھر ان کے آخر میں ( جمع کرکے) سب کا میزان کردیا گیا ‘ اس میں نہ کبھی کوئی اضافہ ہوگا اور نہ کبھی کوئی کمی ہوگی ‘
آپ ﷺ کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! جب سب کچھ پہلے لکھا جا چکا ہے تو اب عمل کس چیز میں کریں !
آپ ﷺ نے فرمایا :
تم ٹھیک ٹھیک کام کرتے رہو ‘ کیونکہ جنت والے کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر کیا جائے گا ‘ خواہ وہ (زندگی بھر) کوئی عمل کرتا رہے ‘ اور دوزخ والے کا خاتمہ اہل دوزخ کے عمل پر کیا جائے گا ‘ خواہ وہ (زندگی بھر) کوئی عمل کرتا رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو جھاڑا اور ان کتابوں کو ایک طرف رکھ دیا ‘
پھر فرمایا : تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ہے۔ ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق دوزخ میں ہے۔ *( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٤١‘ مسند احمد ض ٢ ص ٧٦١)*
📘 ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی لکھ دیا ہے کہ فلاں شخص دوزخی ہے ‘ تو وہ خواہ کتنے ہی نیک عمل کیوں نہ کرے وہ دوزخ میں جانے سے نہیں بچ سکتا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ کون شخص خاتمہ کے وقت اہل جنت کے عمل کرے گا اور کون شخص خاتمہ کے وقت اہل دوزح کے عمل کرے گا تو اس نے وہی کچھ لکھا ہے جو بندوں نے کرنا تھا ‘ اس کو ازل میں علم تھا کہ کون شخص نبی ﷺ کی ہدایت سے ایمان لائے گا اور کون آپ ﷺ کی ہدایت کے باوجود ایمان نہیں لائے گا اور اسی اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے نام الگ الگ کتابوں میں لکھ دیا ہے ،
اور اس آیت میں بھی یہی فرمایا ہے :
اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (از خود) ہدایت دینے والے ہیں ‘ آپ صرف ان لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ *(النمل : ١٨)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-