نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کی جانے والی ندا سے معلوم ہونے والے مسائل اہلے حدیث فرقے میں یا رسول اللہ کہنا شرک ہیں ان کے لئے قرآن پڑھنا بھی شرک ہوگا قرآن کی بہت سی آیت میں حضور ﷺ کے لقب کے ساتھ یا لکھا ہیں

*نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو کی جانے والی ندا سے معلوم ہونے والے مسائل اہلے حدیث فرقے میں یا رسول اللہ کہنا شرک ہیں ان کے لئے قرآن پڑھنا بھی شرک ہوگا قرآن کی بہت سی آیت میں حضور ﷺ کے لقب کے ساتھ یا لکھا ہیں :-
  ترجمۂ کنز العرفان         
اے نبی!اللہ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ سننا۔ بیشک الله علم والا، حکمت والا ہے۔
 تفسیر صراط الجنان           
{ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ  : اے نبی!}  اللہ  تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      کو ’’  یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ  ‘‘ کے ساتھ خطاب فرمایا جس کے معنی یہ ہیں  ’’ ہماری طرف سے خبریں  دینے والے ، ہمارے اَسرار کے امین ، ہمارا خطاب ہمارے پیارے بندوں  کو پہنچانے والے ۔ نامِ پاک کے ساتھ یعنی ’’  یَا مُحَمَّدُ   کہہ کر خطاب نہ فرمایا جیسا کہ دوسرے انبیاء کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خطاب فرمایا ہے، اس سے مقصود آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی عزت وتکریم، آپ کا احترام اور آپ کی فضیلت کوظاہر کرنا ہے ۔ *(مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۱، ص۹۳۰)*   
علامہ اسماعیل حقی  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’  اللہ تعالیٰ نے نبی کریم      صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ’’ اَلنَّبِیُّ ‘‘ کے ساتھ نداکی ہے،نام کے ساتھ ندا کرتے ہوئے ’ ’ یَا مُحَمَّدُ  ‘‘ نہیں  فرمایا جس طرح دوسرے انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو ندا کرتے ہوئے فرمایا کہ یاآدم ، یانوح ، یاموسیٰ ، یاعیسیٰ، یازکریا، اور یایحییٰ، عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اس سے مقصود آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت ووجاہت کو ظاہر کرنا ہے اور ’’ اَلنَّبِیُّ  ان اَلقاب میں  سے ہے جو نام والے کے شرف اورمرتبے پر دلالت کرتا ہے۔یاد رہے کہ سورہِ فتح میں  جو ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ‘‘  فرمایاہے، اس میں  آپ کا نامِ پاک اس لئے ذکر فرمایا تاکہ لوگوں  کومعلوم ہوجائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں  اور لوگ آپ کے رسول ہونے کاعقیدہ رکھیں  اور اس کو عقائد ِحَقّہ میں  شمارکریں  ۔ *(روح البیان، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۱، ۷ / ۱۳۱ )*   
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’قرآنِ عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے مگر جہاں  محمد  رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  سے خطاب فرمایا ہے، حضور کے اَوصافِ جلیلہ و اَلقابِ جمیلہ ہی سے یادکیا ہے: ’ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ *(احزاب: ۴۵ )*   
اے نبی ہم نے تجھے رسول کیا۔   
’’یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ ‘‘ *(مائدہ: ۶۷)*   
اے رسول پہنچا جو تیری طرف اترا ۔   
’’ یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ *( مزمل:۱ ، ۲ )*   
اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے، رات میں  قیام فرما۔   
’’یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ(۱) قُمْ فَاَنْذِرْ *( مدثر: ۱ ، ۲ )*   
اے جھرمٹ مارنے والے، کھڑا ہو لوگوں  کو ڈر سنا۔   
’’یٰسٓۚ(۱) وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ(۲) اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ
*( یس: ۱ ۔ ۳)*   
اے یس، مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی، بے شک تو مُرسَلوں  سے ہے ۔   
’’ طٰهٰۚ(۱) مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰى
‘ *‘( طہ: ۱ ، ۲ )*   
اے طٰہ،ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں  اتارا کہ تو مشقت میں  پڑے۔   
 ہر ذی عقل جانتا ہے کہ جو ان نداؤں  اور ان خطابوں  کو سنے گا بِالبداہت حضور سیّد المرسَلین و اَنبیائے سابقین کا فرق جان لے گا۔امام عزالدین بن عبد السلام وغیرہ علمائے کرام فرماتے ہیں : بادشاہ جب اپنے تمام اُمراء کو نام لے کر پکارے اور ان میں  خاص ایک مُقرب کو یوں  ندا فرمایا کرے: اے مقربِ حضرت!اے نائب ِسلطنت !اے صاحب ِ عزت !اے سردارِ مملکت !تو کیا کسی طرح محلِ رَیب وشک باقی رہے گا کہ یہ بندہ بارگاہِ سلطانی میں  سب سے زیادہ عزت و وجاہت والا اور سرکارِ سلطانی کو تمام عمائد و اَراکین سے بڑھ کر پیارا ہے۔ *(فتاویٰ رضویہ، سیرت وفضائل وخصائص سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۳۰/ ۱۵۴- ۱۵۵ )*         
 *اس نداء سے تین مسئلے معلوم ہوئے :*   
(1)حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فقط نام شریف سے پکارنا قرآنی طریقے کے خلاف ہے ، لہٰذا حضورِ اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ذاتی نام کی بجائے القاب سے پکارنا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:علماء تصریح فرماتے ہیں  ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو نام لے کر نداکرنی حرام ہے۔ اورواقعی محلِ انصاف ہے جسے اس کا مالک ومولیٰ تبارک وتعالیٰ نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تَجاوُز کرے۔ *(فتاویٰ رضویہ، سیرت وفضائل وخصائص سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۳۰ / ۱۵۷)*   
(2) حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذاتی نام شریف محمد واحمد ہیں  جبکہ آپ کے القاب اور صفاتی نام شریف بہت ہیں ۔ نبی بھی آپ کے القاب میں  سے ہے۔   
(3) رب تعالیٰ کی بارگاہ میں  حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت تمام رسولوں  سے زیادہ ہے کہ اور انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو ان کے نام شریف سے پکارا مگر ہمارے حضور پُر نور      صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو لقب شریف سے یاد فرمایا۔   
{ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ  : اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہنا۔}

Comments