جانوروں ،پرندوں کی خوبیوں پر غور فکر کروگے تو دور سے سننا دور سے دیکھنے کو شرک کہنا بھول جاؤگے کتنے بد بخت ہیں جو کمتر مخلوق کی خوبیوں کو مان لیتے سب سے افضل مخلوق کی خوبیوں پر اعتراض کرتے ہیں ہدہد زمین کے اندر کے پانی کو دیکھ لیتی ہیں
*جانوروں ،پرندوں کی خوبیوں پر غور فکر کروگے تو دور سے سننا دور سے دیکھنے کو شرک کہنا بھول جاؤگے کتنے بد بخت ہیں جو کمتر مخلوق کی خوبیوں کو مان لیتے سب سے افضل مخلوق کی خوبیوں پر اعتراض کرتے ہیں ہدہد زمین کے اندر کے پانی کو دیکھ لیتی ہیں :-
حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پرندوں کا جائزہ لینے اور ہدہد کے بارے میں دریافت کرنے کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی جگہ پر اترتے تو جن و اِنس اور پرندوں کے لشکر آپ پر سایہ کر دیتے یہاں جب ہد ہد کی جگہ سے انہیں دھوپ پہنچی تو اس طرف دیکھا،وہاں ہدہد موجود نہیں تھا اس لئے ہد ہد کے بارے میں فرمایا کہ میں ہد ہد کو یہاں نہیں دیکھ رہا۔ دوسرا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہد ہد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پانی کی جگہ کے بارے میں بتادیتا تھا کیونکہ اس میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ زمین کے اندر موجود پانی بھی دیکھ لیتا اور پانی کے قریب یا دور ہونے کے بارے میں جان لیتا تھا،جہاں اسے پانی نظر آتا وہ اپنی چونچ سے اس جگہ کو کُریدنا شروع کر دیتا، پھر جنّات آتے اور اس جگہ کو کھود کر پانی نکال لیتے۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب اس جگہ اترے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پانی کی حاجت ہوئی۔لشکر والوں نے پانی تلاش کیا لیکن انہیں نہ ملا۔ہدہد کو دیکھا گیا تاکہ وہ پانی کے بارے میں بتائے لیکن ہدہد یہاں موجود نہ تھا اس لئے آپ نے فرمایا کہ میں ہد ہد کو یہاں موجود نہیں پاتا۔ *(خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۲۰،۳/ ۴۰۶)*
یاد رہے کہ ہد ہد کو مَصلحت کے مطابق سزا دینا حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے حلال تھا اور جب پرندے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے مُسَخّر کر دئیے گئے تھے تو تادیب و سیاست اس تسخیر کا تقاضا ہے کہ اس کے بغیر تسخیر مکمل نہیں ہوتی۔ *(مدارک، النمل، تحت الآیۃ:۲۱، ص ۸۴۲)*
*ہنسنا تَبَسُّم ہی ہوتا ہے:*
یاد رہے کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہنسنا تبسم ہی ہوتا ہے وہ حضرات قہقہہ مار کر نہیں ہنستے۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کبھی پورا ہنستے نہ دیکھا حتّٰی کہ میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تالو دیکھ لیتی۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صرف مسکرایا کرتے تھے۔ *(بخاری، کتاب الادب، باب التبسم والضحک، ۴ / ۱۲۵ ، الحدیث: ۶۰۹۲)*
حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پرندوں کا جائزہ لینے اور ہدہد کے بارے میں دریافت کرنے کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی جگہ پر اترتے تو جن و اِنس اور پرندوں کے لشکر آپ پر سایہ کر دیتے یہاں جب ہد ہد کی جگہ سے انہیں دھوپ پہنچی تو اس طرف دیکھا،وہاں ہدہد موجود نہیں تھا اس لئے ہد ہد کے بارے میں فرمایا کہ میں ہد ہد کو یہاں نہیں دیکھ رہا۔ دوسرا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہد ہد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پانی کی جگہ کے بارے میں بتادیتا تھا کیونکہ اس میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ زمین کے اندر موجود پانی بھی دیکھ لیتا اور پانی کے قریب یا دور ہونے کے بارے میں جان لیتا تھا،جہاں اسے پانی نظر آتا وہ اپنی چونچ سے اس جگہ کو کُریدنا شروع کر دیتا، پھر جنّات آتے اور اس جگہ کو کھود کر پانی نکال لیتے۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب اس جگہ اترے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پانی کی حاجت ہوئی۔لشکر والوں نے پانی تلاش کیا لیکن انہیں نہ ملا۔ہدہد کو دیکھا گیا تاکہ وہ پانی کے بارے میں بتائے لیکن ہدہد یہاں موجود نہ تھا اس لئے آپ نے فرمایا کہ میں ہد ہد کو یہاں موجود نہیں پاتا۔ *(خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۲۰،۳/ ۴۰۶)*
یاد رہے کہ ہد ہد کو مَصلحت کے مطابق سزا دینا حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے حلال تھا اور جب پرندے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے مُسَخّر کر دئیے گئے تھے تو تادیب و سیاست اس تسخیر کا تقاضا ہے کہ اس کے بغیر تسخیر مکمل نہیں ہوتی۔ *(مدارک، النمل، تحت الآیۃ:۲۱، ص ۸۴۲)*
*ہنسنا تَبَسُّم ہی ہوتا ہے:*
یاد رہے کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہنسنا تبسم ہی ہوتا ہے وہ حضرات قہقہہ مار کر نہیں ہنستے۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کبھی پورا ہنستے نہ دیکھا حتّٰی کہ میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تالو دیکھ لیتی۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صرف مسکرایا کرتے تھے۔ *(بخاری، کتاب الادب، باب التبسم والضحک، ۴ / ۱۲۵ ، الحدیث: ۶۰۹۲)*
Comments
Post a Comment