اہل ِکتاب اپنی کتابوں کا مضمون بیان کریں تو سننے والے کو کیا کہناچاہے؟* *یہی اصول قرآن حدیث کی باتوں کے لئے ہے آج کے زمانے میں لوگ قرآن حدیث کا علم نہ ہونے کے باوجود دین کی باتوں کا انکار کر دیتے ہیں انکار کے لئے بھی علم ہونا ضروری ہیں

*اہل ِکتاب اپنی کتابوں  کا مضمون بیان کریں تو سننے والے کو کیا کہناچاہے؟* 
 *یہی اصول قرآن حدیث کی باتوں کے لئے ہے آج کے زمانے میں لوگ قرآن حدیث کا علم نہ ہونے کے باوجود دین کی باتوں کا انکار کر دیتے ہیں انکار کے لئے بھی علم ہونا ضروری ہیں :-
ترجمۂ کنز العرفان     
اور اے مسلمانو! اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر بہترین انداز پر سوائے ان میں سے ظالموں کے اور کہو:ہم اس پرایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں ۔
 جب اہل ِکتاب کسی شخص سے اپنی کتابوں میں موجود کوئی مضمون بیان کریں تو اسے سننے والے کو کیا کہنا چاہئے وہ اس آیت میں بیان ہوا اور یہی بات حدیث ِپاک میں ایک اور انداز سے بیان کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت ابونملہ انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر تھے اور ایک یہودی شخص بھی وہیں  موجود تھا، اس دوران وہاں سے ایک جنازہ گزرا تو یہودی نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا: کیا یہ مردہ باتیں کرتاہے؟رسول کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔ یہودی کہنے لگا:بے شک یہ باتیں کرتاہے ۔یہ سن کر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! جب اہل ِکتاب تم سے کوئی مضمون بیان کریں تو تم نہ اُن کی تصدیق کرو نہ تکذیب کرو بلکہ یہ کہہ دو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  پر ایمان لائے، تو  (اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ)  اگر وہ مضمون اُنہوں  نے غلط بیان کیا ہے تو اس کی تصدیق کے گناہ سے تم بچے رہو گے اور اگر مضمون صحیح تھا تو تم اس کی تکذیب سے محفوظ رہو گے۔      *(سنن ابو داؤد،کتاب العلم، باب روایۃ حدیث اہل الکتاب، ۳ /۴۴۵، الحدیث:    ۳۶۴۴، مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث ابی نملۃ الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ ، ۶/ ۱۰۲، الحدیث: ۱۷۲۲۵)* 
یاد رہے کہ ہمارا ایمان قرآن کے علاوہ دیگر کتابوں پر بھی ہے لیکن عمل صرف قرآن پر ہے نیز دیگر کتابوں پر جو ایمان ہے وہ ان پر ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں ، موجودہ تحریف شدہ کتابوں پر نہیں  بلکہ ان پر یوں ہے کہ اِن کتابوں میں جو  اللہ  تعالیٰ کا کلام ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے