کافر جو کہنے والے تھے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو پہلے ہی بتا دیا
کافر جو کہنے والے تھے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو پہلے ہی بتا دیا :-*
ترجمۂ کنز العرفان
تم فرماؤ: ساتوں آسمانوں کا مالک اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ اب کہیں گے: یہ سب اللہ ہی کاہے۔ تم فرماؤ: توکیا تم ڈرتے نہیں؟ *(سورۃ المومنون آیت نمبر 86/87)*
تفسیر صراط الجنان
{ سَیَقُوْلُوْنَ : اب کہیں گے۔} اس سے پہلی آیت میں کفار سے دوسراسوال کیا گیا کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کفار کی طرف سے دیا جانے والاجواب پہلے ہی ارشاد فرما دیا کہ وہ آپ کی اس بات کے جواب میں کہیں گے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کاہے۔ تو آپ ان سے فرمائیں کہ پھرتم غَیْرُ اللہ کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے اور اس کے مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے اور اس کے عذاب سے خوف کیوں نہیں کھاتے۔ *(مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۸۶-۸۷ ، ص ۷۶۳ ، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۸۶-۸۷ ، ۳ / ۳۳۰ ، ملتقطاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تمہیں علم ہے۔ اب کہیں گے: یہ (ملکیت) اللہ ہی کیلئے ہے۔ تم فرماؤ:تو کیسے جادو کے فریب میں پڑے ہو؟ *(سورۃ المومنون آیت نمبر 88/89)*
تفسیر صراط الجنان
{ قُلْ : تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان کفار سے فرمائیں ’’اگر تمہیں علم ہے تومجھے اس بات کا جواب دو کہ ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے اور ہر چیز پر حقیقی قدرت و اختیار کس کا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ کفار آپ کے سوال کے جواب میں کہیں گے کہ یہ ملکیت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ آپ ان سے فرمائیں کہ تو پھر تم کس جادو کے فریب میں پڑے ہو؟ یعنی کس شیطانی دھوکے میں ہو کہ توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو؟ جب تم اقرار کرتے ہو کہ حقیقی قدرت اسی کی ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا تو دوسرے کی عبادت قطعاً باطل ہے۔ *( ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۸۸ ، ۴ / ۶۲ ، ملخصاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
تم فرماؤ: ساتوں آسمانوں کا مالک اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ اب کہیں گے: یہ سب اللہ ہی کاہے۔ تم فرماؤ: توکیا تم ڈرتے نہیں؟ *(سورۃ المومنون آیت نمبر 86/87)*
تفسیر صراط الجنان
{ سَیَقُوْلُوْنَ : اب کہیں گے۔} اس سے پہلی آیت میں کفار سے دوسراسوال کیا گیا کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کفار کی طرف سے دیا جانے والاجواب پہلے ہی ارشاد فرما دیا کہ وہ آپ کی اس بات کے جواب میں کہیں گے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کاہے۔ تو آپ ان سے فرمائیں کہ پھرتم غَیْرُ اللہ کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے اور اس کے مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے اور اس کے عذاب سے خوف کیوں نہیں کھاتے۔ *(مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۸۶-۸۷ ، ص ۷۶۳ ، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۸۶-۸۷ ، ۳ / ۳۳۰ ، ملتقطاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تمہیں علم ہے۔ اب کہیں گے: یہ (ملکیت) اللہ ہی کیلئے ہے۔ تم فرماؤ:تو کیسے جادو کے فریب میں پڑے ہو؟ *(سورۃ المومنون آیت نمبر 88/89)*
تفسیر صراط الجنان
{ قُلْ : تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان کفار سے فرمائیں ’’اگر تمہیں علم ہے تومجھے اس بات کا جواب دو کہ ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے اور ہر چیز پر حقیقی قدرت و اختیار کس کا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ کفار آپ کے سوال کے جواب میں کہیں گے کہ یہ ملکیت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ آپ ان سے فرمائیں کہ تو پھر تم کس جادو کے فریب میں پڑے ہو؟ یعنی کس شیطانی دھوکے میں ہو کہ توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو؟ جب تم اقرار کرتے ہو کہ حقیقی قدرت اسی کی ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا تو دوسرے کی عبادت قطعاً باطل ہے۔ *( ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۸۸ ، ۴ / ۶۲ ، ملخصاً )*
Comments
Post a Comment