مردے سننتے ہیں اس لئے قیامت کی صور کی آواز سنن کر زندہ ہوجاییں ندا فرمانے اور قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کی صورت

*مردے سننتے ہیں اس لئے قیامت کی صور کی آواز سنن کر زندہ ہوجاییں ندا فرمانے اور قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کی صورت: -* 
 ندا فرمانے اور قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کی صورت یہ ہو گی کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام  قبر والوں کو اُٹھانے کے لئے      (دوسری بار) صور پھونکیں گے اور کہیں گے کہ اے قبر والو! کھڑے ہو جاؤ، تو اَوّلین وآخرین میں  سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو نہ اُٹھے۔ *(جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۲۵، ص ۳۴۲، مدارک، الروم، تحت الآیۃ:۲۵ ، ص۹۰۶، ملتقطاً)*   
جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ    وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ *(زمر:۶۸)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* : اورصور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں  اور جتنے زمین میں  ہیں  سب بیہوش       ہو جائیں  گے مگر جسے  اللہ چاہے پھر دوسری مرتبہ اس میں پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے  ہوجائیں گے۔   
اور فرماتا ہے کہ  وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ
*(یٰس:۵۱)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اور صورمیں  پھونک ماری جائے گی تو اسی وقت وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلے  جائیں گے۔   
اور صور کے بارے میں فرماتا ہے: اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ *(یٰس:۵۳ )*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* : وہ تو صرف ایک چیخ ہوگی تو اسی وقت وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کردئیے جائیں گے۔   
اور فرماتا ہے:  فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳)فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ *(النازعات:۱۳ ، ۱۴)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* : تو وہ (پھونک) تو ایک جھڑکنا ہی ہے۔ تو فوراً وہ کھلے میدان میں  آپڑے ہوں  گے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے