اولیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْهِمْ کی طرف منسوب جانوروں حرام نہیں ہوتا یہ ایسا ہیں جیسے عقیقہ کا جانور تمہری طرف منسوب ہوتا ہیں حدیث میں حرام حلال کا اصول بیان ہیں جو صرف کھانے پینے کے لئے محدود نہیں ہیں ہر اچھی بدعت بھی اس اصول میں شمار ہوگی کسی کو حرام قرار دینے کے لئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہیں حلال کے لئے اصول دیا گیا ہیں :-
اولیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْهِمْ کی طرف منسوب جانوروں حرام نہیں ہوتا یہ ایسا ہیں جیسے عقیقہ کا جانور تمہری طرف منسوب ہوتا ہیں حدیث میں حرام حلال کا اصول بیان ہیں جو صرف کھانے پینے کے لئے محدود نہیں ہیں ہر اچھی بدعت بھی اس اصول میں شمار ہوگی کسی کو حرام قرار دینے کے لئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہیں حلال کے لئے اصول دیا گیا ہیں :-
یاد رہے کہ جن جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی طرف منسوب کیا جائے اور انہیں ذبح شرعی طریقے کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی حلال ہیں اور قرآن و حدیث میں کہیں بھی ایسے جانوروں کا حرام ہونا بیان نہیں کیا گیا لہٰذا کسی شرعی دلیل کے بغیر انہیں حرام کہنا اور اس پر شرک کے فتوے لگانا ہر گز درست نہیں ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷) وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ *( مائدہ : ۸۷ ،۸۸ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔
اور حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی تو وہ معاف شدہ چیزوں میں سے ہے۔ *(ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء ، ۳ / ۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲)*
*اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کی جائے :-*
ترجمۂ کنز العرفان
حکمِ الٰہی یہ ہے اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے اور تمہارے لیے بے زبان چوپائے حلال کئے گئے سوائے ان کے جن کا (حرام ہونا) تمہارے سامنے بیان کیا جاتا ہے۔ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ *(سورۃ الحج آیت نمبر 30)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ : اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرنے پر ابھارتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے جنہیں اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے تو یہ تعظیم اُس کے لئے بہتر ہے کہ اِس پر اللہ تعالیٰ اُسے آخرت میں ثواب عطا فرمائے گا۔ *( البحر المحیط، الحج، تحت الآیۃ : ۳۰ ، ۶ / ۳۳۹ ، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ : ۳۰، ۶ / ۲۹ ، ملتقطاً )*
اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں اور جن مقامات کو اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے ان کی تعظیم کرنے والا بھلائی پاتا ہے اور ان کی بے حرمتی کرنے والا نقصان اٹھاتا اور تباہ وبرباد ہو جاتا ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے اور ان کی بے حرمتی کرنے سے بچے نیز جن ہستیوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں قرب و شرف عطا فرما کر عزت و عظمت سے نوازا ہے جیسے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ وغیرہ،ان کی اور ان سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی بھی تعظیم کرے اور کسی طرح ان کی بے ادبی نہ کرے ۔
یاد رہے کہ جن جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی طرف منسوب کیا جائے اور انہیں ذبح شرعی طریقے کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی حلال ہیں اور قرآن و حدیث میں کہیں بھی ایسے جانوروں کا حرام ہونا بیان نہیں کیا گیا لہٰذا کسی شرعی دلیل کے بغیر انہیں حرام کہنا اور اس پر شرک کے فتوے لگانا ہر گز درست نہیں ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷) وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ *( مائدہ : ۸۷ ،۸۸ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔
اور حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی تو وہ معاف شدہ چیزوں میں سے ہے۔ *(ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء ، ۳ / ۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲)*
*اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کی جائے :-*
ترجمۂ کنز العرفان
حکمِ الٰہی یہ ہے اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے اور تمہارے لیے بے زبان چوپائے حلال کئے گئے سوائے ان کے جن کا (حرام ہونا) تمہارے سامنے بیان کیا جاتا ہے۔ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ *(سورۃ الحج آیت نمبر 30)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ : اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرنے پر ابھارتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے جنہیں اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے تو یہ تعظیم اُس کے لئے بہتر ہے کہ اِس پر اللہ تعالیٰ اُسے آخرت میں ثواب عطا فرمائے گا۔ *( البحر المحیط، الحج، تحت الآیۃ : ۳۰ ، ۶ / ۳۳۹ ، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ : ۳۰، ۶ / ۲۹ ، ملتقطاً )*
اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں اور جن مقامات کو اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے ان کی تعظیم کرنے والا بھلائی پاتا ہے اور ان کی بے حرمتی کرنے والا نقصان اٹھاتا اور تباہ وبرباد ہو جاتا ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے اور ان کی بے حرمتی کرنے سے بچے نیز جن ہستیوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں قرب و شرف عطا فرما کر عزت و عظمت سے نوازا ہے جیسے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ وغیرہ،ان کی اور ان سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی بھی تعظیم کرے اور کسی طرح ان کی بے ادبی نہ کرے ۔
Comments
Post a Comment