حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دنیا میں جنّت کی خشبوں محسوس کر لیتے ہیں اور حضور ﷺ نے شہیدوں کی قبر کی زیارت کا حکم دیا رب تعالی کی قسم کھا کے فرمایا قیامت تک یہ ہر سلام کرنے والے کا جواب دینگے
*حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دنیا میں جنّت کی خشبوں محسوس کر لیتے ہیں اور حضور ﷺ نے شہیدوں کی قبر کی زیارت کا حکم دیا رب تعالی کی قسم کھا کے فرمایا قیامت تک یہ ہر سلام کرنے والے کا جواب دینگے :-
ترجمۂ کنز العرفان
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا جوانہوں نےاللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہے اور وہ بالکل نہ بدلے۔ *(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 23)*
تفسیر صراط الجنان
حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرے چچا حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر کے موقع پر موجود نہ تھے، یہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئی ـ : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی جنگ لڑی تھی میں اس میں موجود نہ تھا،اگر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جنگ آزمائی کا پھر موقع دیا تو اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور دکھا دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔جب اُحد کی معرکہ آرائی کا دن آیا اور بعض مسلمان جنگ کے میدان میں ٹھہر نہ سکے، توانہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور عرض کی: یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ، میں اُس حرکت سے علیحدگی کا اظہار کرتا ہوں جو ہمارے بعض ساتھیوں سے سرزد ہوئی اور میں اُس فعل سے بیزار ہوں جس کے یہ مشرکین مُرتکب ہوئے ہیں ۔پھر انہوں نے مشرکین کی جانب پیش قدمی فرمائی تو راستے میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات ہوئی، آپ نے ان سے فرمایا: اے سعد بن معاذ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ، نضر کے رب عَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے اُحد کی اس جانب سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں ان کا حال یوں عرض کیا کرتے تھے کہ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جو جوانمردی حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دکھائی وہ میری بساط سے باہر ہے۔حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب (جنگ کے بعد) ہم نے حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو جامِ شہادت نوش کئے ہوئے پایا تو ان کے جسم پر 80 سے زیادہ تلواروں ،تیروں اور نیزوں کے زخم تھے۔ مشرکین نے ان کے کان اور ناک وغیرہ کاٹ لئے تھے جس کے باعث انہیں کوئی پہچان نہ سکا البتہ صرف ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہمارا خیال اور گمان ہے کہ یہ آیت ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ ‘‘ ان کے بارے میں اور ان جیسے حضرات ہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ *(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قول اللّٰہ تعالی: من المؤمنین رجال صدقوا۔الخ، ۲/ ۲۵۵، الحدیث: ۲۸۰۵)*
اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُحد سے واپس تشریف لائے تو حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پا س سے گزرے جوکہ شہید ہو کر راستے میں پڑے ہوئے تھے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے پاس کھڑے ہو کر دعا فرمائی اور اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا ‘‘ *(احزاب: ۲۳)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہےاور وہ بالکل نہ بدلے۔
پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں گواہی دیتا
ہوں کہ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید ہیں ،تو تم ان کے پاس آیا کرو اور ان کی زیارت کیا کرو اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، قیامت تک جو شخص بھی ان کو سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ *(مستدرک، کتاب التفسیر، زیارۃ قبور الشہداء وردّ السلام منہم الی یوم القیامۃ، ۲/ ۶۲۹ ، الحدیث: ۳۰۳۱)*
ترجمۂ کنز العرفان
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا جوانہوں نےاللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہے اور وہ بالکل نہ بدلے۔ *(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 23)*
تفسیر صراط الجنان
حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرے چچا حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر کے موقع پر موجود نہ تھے، یہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئی ـ : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی جنگ لڑی تھی میں اس میں موجود نہ تھا،اگر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جنگ آزمائی کا پھر موقع دیا تو اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور دکھا دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔جب اُحد کی معرکہ آرائی کا دن آیا اور بعض مسلمان جنگ کے میدان میں ٹھہر نہ سکے، توانہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور عرض کی: یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ، میں اُس حرکت سے علیحدگی کا اظہار کرتا ہوں جو ہمارے بعض ساتھیوں سے سرزد ہوئی اور میں اُس فعل سے بیزار ہوں جس کے یہ مشرکین مُرتکب ہوئے ہیں ۔پھر انہوں نے مشرکین کی جانب پیش قدمی فرمائی تو راستے میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات ہوئی، آپ نے ان سے فرمایا: اے سعد بن معاذ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ، نضر کے رب عَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے اُحد کی اس جانب سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں ان کا حال یوں عرض کیا کرتے تھے کہ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جو جوانمردی حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دکھائی وہ میری بساط سے باہر ہے۔حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب (جنگ کے بعد) ہم نے حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو جامِ شہادت نوش کئے ہوئے پایا تو ان کے جسم پر 80 سے زیادہ تلواروں ،تیروں اور نیزوں کے زخم تھے۔ مشرکین نے ان کے کان اور ناک وغیرہ کاٹ لئے تھے جس کے باعث انہیں کوئی پہچان نہ سکا البتہ صرف ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہمارا خیال اور گمان ہے کہ یہ آیت ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ ‘‘ ان کے بارے میں اور ان جیسے حضرات ہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ *(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قول اللّٰہ تعالی: من المؤمنین رجال صدقوا۔الخ، ۲/ ۲۵۵، الحدیث: ۲۸۰۵)*
اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُحد سے واپس تشریف لائے تو حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پا س سے گزرے جوکہ شہید ہو کر راستے میں پڑے ہوئے تھے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے پاس کھڑے ہو کر دعا فرمائی اور اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا ‘‘ *(احزاب: ۲۳)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہےاور وہ بالکل نہ بدلے۔
پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں گواہی دیتا
ہوں کہ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید ہیں ،تو تم ان کے پاس آیا کرو اور ان کی زیارت کیا کرو اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، قیامت تک جو شخص بھی ان کو سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ *(مستدرک، کتاب التفسیر، زیارۃ قبور الشہداء وردّ السلام منہم الی یوم القیامۃ، ۲/ ۶۲۹ ، الحدیث: ۳۰۳۱)*
Comments
Post a Comment