اللہ تعالیٰ نے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے تمام مخلوق کو فرماں بردار بنایا انشاءاللہ آگے ہم اس کی دلیل بھی پوسٹ کرینگے
اللہ تعالیٰ نے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے تمام مخلوق کو فرماں بردار بنایا انشاءاللہ آگے ہم اس کی دلیل بھی پوسٹ کرینگے :-*
ترجمۂ کنز العرفان
*اور کچھ جنات کو (سلیمان کے تابع کردیا) جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے اور ہم ان جنات کو روکے ہوئے تھے۔*
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی مشہور تفسیر ’’روح البیان‘‘ میں اس مقام پر بہت پیارا کلام نقل فرمایا ہے ،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے پہاڑوں پرندوں ،لوہے اور پتھروں کو مُسَخّر کیا۔حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے ،ہوا، جن ، شَیاطین،حیوانات، پرندے، معدنیات،نباتات اور سورج کو مسخر کیا جبکہ ہمارے نبی اور اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے ہر چیز کو مسخر کر دیا، آپ کے لئے زمین کو لپیٹ دیاگیا حتّٰی کہ آپ نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا۔آپ کی خاطرپوری زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا،زمین کے خزانوں کی چابیاں آپ کو عطا کر دی گئیں ،آپ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوئے، درخت آپ پر سلام بھیجتے، درخت آپ کااشارہ پاتے ہی اپنی جگہ سے اکھڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے اور آپ کا اشارہ پا کر اپنی جگہ واپس لوٹ جاتے، جانور آپ کے ساتھ کلام کرتے اور آپ کی نبوت کی گواہی دیتے، آپ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ڈوبا ہوا سورج آپ کا اشارہ پا کر پلٹ آیا، براق کو آپ کے لئے مسخر کر دیا گیا، ساتوں آسمانوں ، جنت اور عرش و کرسی کو آپ نے عبور کیا حتّٰی کہ دو ہاتھ یا اس سے بھی کم فاصلے کے مقام پر فائز ہوئے۔ الغرض کائنات میں جتنی مخلوقات موجود ہیں سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے مسخر کر دیا۔ *(روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۸۲، ۵ / ۵۱۱-۵۱۲، ملخصاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
*اور کچھ جنات کو (سلیمان کے تابع کردیا) جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے اور ہم ان جنات کو روکے ہوئے تھے۔*
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی مشہور تفسیر ’’روح البیان‘‘ میں اس مقام پر بہت پیارا کلام نقل فرمایا ہے ،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے پہاڑوں پرندوں ،لوہے اور پتھروں کو مُسَخّر کیا۔حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے ،ہوا، جن ، شَیاطین،حیوانات، پرندے، معدنیات،نباتات اور سورج کو مسخر کیا جبکہ ہمارے نبی اور اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے ہر چیز کو مسخر کر دیا، آپ کے لئے زمین کو لپیٹ دیاگیا حتّٰی کہ آپ نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا۔آپ کی خاطرپوری زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا،زمین کے خزانوں کی چابیاں آپ کو عطا کر دی گئیں ،آپ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوئے، درخت آپ پر سلام بھیجتے، درخت آپ کااشارہ پاتے ہی اپنی جگہ سے اکھڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے اور آپ کا اشارہ پا کر اپنی جگہ واپس لوٹ جاتے، جانور آپ کے ساتھ کلام کرتے اور آپ کی نبوت کی گواہی دیتے، آپ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ڈوبا ہوا سورج آپ کا اشارہ پا کر پلٹ آیا، براق کو آپ کے لئے مسخر کر دیا گیا، ساتوں آسمانوں ، جنت اور عرش و کرسی کو آپ نے عبور کیا حتّٰی کہ دو ہاتھ یا اس سے بھی کم فاصلے کے مقام پر فائز ہوئے۔ الغرض کائنات میں جتنی مخلوقات موجود ہیں سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے مسخر کر دیا۔ *(روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۸۲، ۵ / ۵۱۱-۵۱۲، ملخصاً )*
Comments
Post a Comment