حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ قرآن کی تفسیر میں جہنمی کے حالات بیان کر رہے ہیں یہ علم غیب نہیں تو کیا ہیں
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ قرآن کی تفسیر میں جہنمی کے حالات بیان کر رہے ہیں یہ علم غیب نہیں تو کیا ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
جہنم میں ان کی گدھے جیسی آوازیں ہوں گی اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے۔ *(سورۃ الانبیاء آیت نمبر 100)*
تفسیر صراط الجنان
{لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ:جہنم میں ان کی گدھے جیسی آوازیں ہوں گی۔} ارشاد فرمایا کہ وہ مشرک جہنم میں گدھے جیسی آوازیں نکالیں گے اور عذاب کی شدت سے چیخیں گے اور دھاڑیں گے اور وہ جہنم کے جوش کی شدت کی وجہ سے اس میں کچھ نہ سنیں گے۔ *(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۷۲۷، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۲۷۷، ملتقطاً)*
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’ جب جہنم میں وہ لوگ رہ جائیں گے جنہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آ گ کے تابوتوں میں بند کر دئیے جائیں گے، وہ تابوت دوسرے تابوتوں میں ، پھر وہ تابوت اور تابوتوں میں بند کر دئیے جائیں گے اور ان تابوتوں پر آ گ کی میخیں لگادی جائیں گی تو وہ کچھ نہ سنیں گے اور نہ کوئی ان میں کسی کو دیکھے گا۔ *( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۳ / ۲۹۶)*
ترجمۂ کنز العرفان
جہنم میں ان کی گدھے جیسی آوازیں ہوں گی اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے۔ *(سورۃ الانبیاء آیت نمبر 100)*
تفسیر صراط الجنان
{لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ:جہنم میں ان کی گدھے جیسی آوازیں ہوں گی۔} ارشاد فرمایا کہ وہ مشرک جہنم میں گدھے جیسی آوازیں نکالیں گے اور عذاب کی شدت سے چیخیں گے اور دھاڑیں گے اور وہ جہنم کے جوش کی شدت کی وجہ سے اس میں کچھ نہ سنیں گے۔ *(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۷۲۷، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۲۷۷، ملتقطاً)*
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’ جب جہنم میں وہ لوگ رہ جائیں گے جنہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آ گ کے تابوتوں میں بند کر دئیے جائیں گے، وہ تابوت دوسرے تابوتوں میں ، پھر وہ تابوت اور تابوتوں میں بند کر دئیے جائیں گے اور ان تابوتوں پر آ گ کی میخیں لگادی جائیں گی تو وہ کچھ نہ سنیں گے اور نہ کوئی ان میں کسی کو دیکھے گا۔ *( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۳ / ۲۹۶)*
Comments
Post a Comment